کے فور پراجیکٹ اور کراچی میں پانی کا سنگین بحران: حل ناگزیر


پانی قدرت کا وہ انمول عطیہ اور بنیادی انسانی حق ہے جس پر کسی بھی معاشرے کی بقا اور خوش حالی کا دارومدار ہے۔ بدقسمتی سے، معاشی حب کہلانے والا شہر کراچی اور صوبہ سندھ کے کئی علاقے آج شدید ترین پانی کے بحران کا شکار ہیں۔ گلیوں میں خشک نلکوں کے نظارے، پانی کے ٹینکرز کے گرد ہجوم اور کچی آبادیوں سے لے کر پوش علاقوں تک پانی کی غیر مساوی تقسیم نے عوام کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے۔ اس بحران کی سنگینی کا تقاضا ہے کہ زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر موثر اقدامات کیے جائیں، جن میں "کے فور پروجیکٹ” کی بروقت تکمیل کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر میں پانی کا مطالبہ اور رسد (Demand and Supply) کا توازن مکمل طور پر بگڑ چکا ہے۔
اعداد و شمار کا تناسب: شہر کی روزمرہ کی ضرورت تقریباً 1200 ملین گیلن یومیہ (MGD) ہے، جب کہ اس کے مقابلے میں واٹر بورڈ کی جانب سے محض 600 MGD کے قریب پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس طرح 50 فیصد سے زائد کا ہولناک شارٹ فال (Supply Gap) موجود ہے۔
متاثرہ علاقوں کی تقسیم: یہ بحران یکساں نہیں ہے۔ اورنگی ٹاؤن، بلدیہ، لیاری اور ملیر کے بعض حصوں میں صورت حال انتہائی ابتر ہے جہاں مہینوں نلکے خشک رہتے ہیں۔ دوسری طرف متوسط اور بالادستی والے علاقوں میں بھی پانی کی منصفانہ تقسیم کا فقدان ہے، جس نے عام شہری کو ٹینکر مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔
پانی کی یہ قلت محض ایک معاشی یا انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑا انسانی المیہ بن چکی ہے۔ مغربی اضلاع اور پس ماندہ علاقوں میں صبح اٹھتے ہی پانی کی تلاش شہریوں کی روزمرہ کی تگ و دو کا محور بن جاتی ہے۔ گھروں کی ٹونٹیاں مہینوں خشک رہنے کے باعث لوگ زیرِ زمین کڑوا اور مضرِ صحت پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جس سے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں (Water-borne diseases) تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، ایک عام غریب اور متوسط خاندان اپنی ماہانہ آمدن کا بڑا حصہ مہنگے داموں پانی کے ٹینکرز خریدنے میں صرف کرنے پر مجبور ہے، جو ان کی معاشی کمر توڑ رہا ہے۔
اس دیرینہ اور سنگین مسئلے کا سب سے موثر اور مستقل حل کے فور پروجیکٹ (Greater Karachi Bulk Water Supply Scheme) ہے۔ اس منصوبے کے تحت کینجھر جھیل (ٹھٹھہ) سے کراچی کے لیے اضافی 650 MGD پانی کی فراہمی متوقع ہے۔
مرحلہ وار گنجائش:اس پروجیکٹ کے فیز 1 کے ذریعے ابتدائی طور پر 260 MGD پانی شہر میں لایا جانا ہے، جسے بعد کے مراحل میں بڑھا کر ہدف تک پہنچایا جائے گا۔
تاخیر کے اسباب اور احتساب: بدقسمتی سے فنڈز کی عدم دستیابی، ڈیزائن میں بار بار تبدیلیوں اور بیورو کریسی کی سست روی کی وجہ سے یہ منصوبہ برسوں سے التوا کا شکار ہے۔ اس تاخیر نے شہر کے عوام کو مزید مشکلات میں دھکیل دیا ہے۔ منصوبے کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اس میں شفافیت، بروقت فنڈنگ اور سخت انتظامی احتساب کو یقینی بنایا جائے۔
اس بحران کو ایوانوں اور عوام دونوں کی سطح پر اجاگر کرنے اور حل کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپنانی ہوگی:
- غیر قانونی نیٹ ورک کا خاتمہ: واٹر بورڈ کے نظام میں موجود کرپشن، پانی کی چوری اور ٹینکر مافیا کی پشت پناہی کا سختی سے خاتمہ کیا جائے۔
- پانی کے ضیاع کی روک تھام: اجتماعی سطح پر پانی کے موثر استعمال اور انفرادی سطح پر بارش کے پانی کو محفوظ بنانے (Rainwater Harvesting) کے طریقوں کو فروغ دیا جائے۔
پانی کا بحران سندھ اور بالخصوص کراچی کا ایک ایسا سلگتا ہوا مسئلہ ہے جو مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ کے فور پروجیکٹ کی بروقت تکمیل اس پیاسے شہر کے لیے زندگی کی علامت ہے۔ حکومت، متعلقہ اداروں اور بحران سے جڑے تمام شراکت داروں کو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہوکر اس قومی منصوبے کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچانا ہوگا، تاکہ ہر شہری کو اس کا بنیادی حق بلاتعطل مل سکے اور ایک مستحکم، خوش حال اور پانی کے لحاظ سے محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھی جاسکے۔



