پاکستان ماں

اسد احمد
شہر کی شور شرابے والی زندگی سے دُور، پہاڑی علاقے کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک پرانا کچا مکان تھا، جہاں 70 سالہ رضیہ بی بی روزانہ شام کو آس بھری نگاہوں سے دروازے کی طرف تکتی رہتیں۔ اُن کا بیٹا فرحان چار سال پہلے روزگار کی تلاش میں شہر گیا تھا۔ شروع میں تو خط اور کچھ پیسے آتے رہے، لیکن پچھلے دو سال سے نہ کوئی خط آیا اور نہ کوئی خبر۔ رضیہ بی بی کے ساتھ ان کی 8 سالہ پوتی زینب رہتی تھی، جس کے والد کا بچپن میں ہی انتقال ہوچکا تھا اور ماں دوسری شادی کرکے جاچکی تھی۔ رضیہ بی بی کے لیے زینب ہی ان کی کل کائنات تھی اور زینب کے لیے ان کی دادی جان۔ شدید سردی کا موسم شروع ہوچکا تھا اور پہاڑوں پر برف باری جاری تھی۔ رضیہ بی بی کی طبیعت دن بہ دن خراب ہوتی جارہی تھی، لیکن دوا کے پیسے نہیں تھے۔ جو تھوڑی بہت مزدوری ملتی، اس سے وہ زینب کے لیے آٹا خرید لیتیں تاکہ بچی بھوکی نہ سوئے۔
ایک شام، جب برف باری بہت تیز ہوگئی تو گھر میں آٹا ختم تھا، صرف ایک آخری روٹی کے برابر آٹا بچا تھا۔ رضیہ بی بی نے کانپتے ہاتھوں سے وہ آخری روٹی پکائی۔ اُن کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو گرم توے پر گر کر بھاپ بن رہے تھے۔
"دادی جان! آپ رو کیوں رہی ہیں؟” زینب نے ان کے گھٹنے پر سر رکھتے ہوئے پوچھا۔
رضیہ بی بی نے جلدی سے آنسو پونچھے اور مسکرا کر بولیں، "کچھ نہیں میری جان! چولہے کے دھویں سے آنکھوں میں پانی آ گیا۔”
انہوں نے روٹی کے دو ٹکڑے کیے۔ ایک ٹکڑا زینب کو دیا اور دوسرا ٹکڑا صحن میں رکھی پرانی پیتل کی بالٹی میں چھپا دیا۔
"دادی جان! آپ نہیں کھائیں گی؟” زینب نے معصومیت سے پوچھا۔
"میں نے کھالی بیٹا، تُو چپ چاپ کھا لے۔” رضیہ بی بی نے جھوٹ بولا، کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ اگر وہ دوسرا ٹکڑا بھی زینب کو دے دیتیں تو بچی سمجھ جاتی کہ دادی بھوکی ہے۔ وہ ٹکڑا انہوں نے اگلے دن کے لیے سنبھال کر رکھا تھا۔
رات کی شدید سردی میں رضیہ بی بی نے اپنی واحد گرم شال زینب کے اوپر ڈال دی اور خود ایک پرانی بوری اوڑھ کر لیٹ گئیں۔ وہ رات بھر کھانستی رہیں اور فرحان کی آمد کی دعائیں مانگتی رہیں۔
صبح جب سورج کی پہلی کرن چمکی تو گاؤں کے بس اسٹینڈ پر ایک شخص اترا، وہ فرحان تھا۔ شہر کی مصروفیت میں وہ دو سال کے دوران اپنی بوڑھی ماں کو بھول چکا تھا، لیکن کل رات آئے ایک بے چین کر دینے والے خواب نے اسے گاؤں بھاگنے پر مجبور کر دیا تھا۔
فرحان جب اپنے کچے گھر کے صحن میں پہنچا تو سناٹا تھا: "ماں…؟”
کوئی جواب نہ آیا۔ وہ دوڑ کر اندر گیا۔ صحن میں زینب اپنی دادی کے سینے سے لپٹی سورہی تھی۔ فرحان نے آگے بڑھ کر رضیہ بی بی کے شانے کو ہلایا: "ماں! میں آگیا ماں! دیکھو فرحان آیا ہے…”
لیکن رضیہ بی بی کا جسم بالکل ٹھنڈا اور ساکت ہوچکا تھا۔ وہ رات کی شدید سردی اور بھوک کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہوچکی تھیں۔ ان کی کھلی ہوئی ٹھنڈی آنکھیں اب بھی دروازے کی طرف تک رہی تھیں، جیسے کہہ رہی ہوں کہ تُو بہت دیر سے آیا بیٹے۔
فرحان زمین پر گر پڑا اور ماں کے پاؤں پکڑ کر روئے جارہا تھا: "ماں! مجھے معاف کردو! میں اپنے بچوں، گاڑیوں اور کاروبار میں اندھا ہوگیا تھا… اٹھو نا ماں!”
شور سن کر زینب کی آنکھ کھل گئی۔ وہ فرحان کو دیکھ کر پہچان گئی۔ اس کی معصوم آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ اٹھی اور پیتل کی بالٹی سے وہ روٹی کا سوکھا ٹکڑا اٹھاکر لائی جو رضیہ بی بی نے رات کو چھپایا تھا۔
زینب نے وہ سوکھا ٹکڑا فرحان کے کانپتے ہاتھوں میں رکھا اور بولی: "چچا جان… دادی جان رات بھر آپ کا انتظار کرتی رہیں۔ انہوں نے یہ آدھا ٹکڑا آپ کے لیے بچاکر رکھا تھا… کہہ رہی تھیں کہ فرحان آئے گا تو بھوکا ہوگا…”
فرحان نے جب وہ سوکھا، ٹھنڈا روٹی کا ٹکڑا دیکھا تو اس کے سینے سے ایک ایسی چیخ نکلی جس نے پورے گاؤں کو ہلاکر رکھ دیا۔ وہ روٹی کا ٹکڑا اپنے سینے سے لگاکر زمین پر سر پٹخنے لگا۔ اس کا پیسہ، اس کی گاڑیاں، اس کا مہنگا کوٹ… سب اس آخری سوکھی روٹی کے سامنے بے قیمت ہوچکے تھے۔ ماں چلی گئی تھی اور پیچھے چھوڑ گئی تھی صرف ایک سوکھی روٹی اور کبھی نہ ختم ہونے والا پچھتاوا۔
https://urdu.voiceofsindh.live/mother/






