Skip to content
جمعہ, 30 اکتوبر 2026 ٹرینڈنگ کراچی کرکٹ صحت شوبز
بریکنگ
بلاگ

کراچی پیاسا کیوں؟

شیئر کریں
کراچی پیاسا کیوں؟

وقاص بیگ

کراچی میں پانی کی قلت شہر کے سنگین ترین شہری مسائل میں شامل ہوچکی ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور معاشی مرکز کے لاکھوں خاندان روزانہ پانی کی فراہمی میں کمی، مہنگے واٹر ٹینکرز اور بے یقینی آبی نظام کا سامنا کررہے ہیں۔ ایسے میں کراچی کے لیے اہم آبی منصوبہ کے فور برسوں سے تاخیر کا شکار ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کراچی میں پانی کی قلت کب ختم ہوگی اور کے فور منصوبہ کب مکمل ہوکر شہریوں کو ریلیف فراہم کرے گا؟
کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی، صنعتی ضروریات اور شہری پھیلاؤ نے پانی کی طلب میں مسلسل اضافہ کیا ہے۔ مختلف سرکاری اور ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق شہر کو روزانہ قریباً 1,200 سے 1,300 ملین گیلن پانی درکار ہے جب کہ فراہمی قریباً 650 ملین گیلن یومیہ بتائی جاتی ہے۔ یوں طلب اور فراہمی کے درمیان قریباً 550 سے 650 ملین گیلن روزانہ کا فرق سامنے آتا ہے۔ مختلف تخمینوں میں فرق کے باوجود یہ اعداد و شمار کراچی کے آبی بحران کی سنگینی واضح کرتے ہیں۔ پانی کی قلت محض نلکوں سے پانی نہ آنے کا مسئلہ نہیں، بلکہ اس کے اثرات شہریوں کی صحت، گھریلو بجٹ، صفائی اور معاشی سرگرمیوں تک پھیل چکے ہیں۔ صاحبِ حیثیت خاندان مہنگے داموں واٹر ٹینکر خرید کر کسی حد تک اپنی ضرورت پوری کرلیتے ہیں، لیکن مزدور، کم آمدن والے ملازمین اور غریب گھرانوں کے لیے بار بار پانی خریدنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ یوں پانی کی غیر مساوی تقسیم معاشرتی ناہمواری کو مزید بڑھا رہی ہے۔
کے فور منصوبہ کراچی کو کینجھر جھیل سے اضافی پانی فراہم کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کی ابتدائی منصوبہ بندی میں مجموعی طور پر 650 ملین گیلن یومیہ پانی فراہم کرنے کا تصور پیش کیا گیا جب کہ موجودہ پہلے مرحلے کی گنجائش 260 ملین گیلن یومیہ ہے۔ اس کی تکمیل سے کراچی کے آبی نظام پر دباؤ کم کرنے اور پانی کی فراہمی بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، منصوبے کی طویل تاخیر نے اس کے فوائد کو مسلسل مؤخر کیا ہے۔ قانونی پیچیدگیاں، اداروں کے درمیان رابطے کی کمی، انتظامی مسائل اور ڈیزائن میں تبدیلیاں ایسے عوامل کے طور پر سامنے آتے رہے ہیں جنہوں نے تعمیراتی رفتار متاثر کی۔ مختلف ادوار میں ذمے دار اداروں کی تبدیلی اور منصوبے پر نظرثانی کے باوجود مقررہ مدت میں تکمیل یقینی نہیں بنائی جاسکی۔
کے فور منصوبے کے حوالے سے ایک اہم تشویش اس کی لاگت میں اضافہ ہے۔ اگست 2026 میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق منصوبے کی لاگت قریباً 172 ارب روپے تک پہنچ گئی جب کہ تکمیل کی نئی مدت جون 2027 بتائی گئی۔ یہ صورت حال عوامی وسائل کے مؤثر استعمال اور منصوبہ بندی کے معیار سے متعلق اہم سوالات پیدا کرتی ہے۔
منصوبے کی لاگت بڑھنے کے اسباب، تعمیراتی مراحل میں تاخیر اور ڈیزائن میں ہونے والی تبدیلیوں کی تفصیلات عوام کے سامنے آنی چاہئیں۔ شہریوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ اضافی اخراجات کن وجوہ کی بنا پر ہوئے، اب تک کتنا کام مکمل ہوچکا ہے اور باقی مراحل مقررہ مدت میں کیسے پورے کیے جائیں گے۔
جون 2027 کی تاریخ کو محض ایک اور اعلان بننے سے روکنے کے لیے ضروری ہے کہ وفاقی اور سندھ حکومت باقاعدہ نگرانی کا نظام قائم کریں۔ تعمیراتی پیش رفت، فنڈز کے استعمال اور باقی کام کی مدت سے متعلق معلومات باقاعدگی سے جاری کی جائیں جب کہ تاخیر کی صورت میں ذمہ داری کا تعین بھی کیا جائے۔
کے فور منصوبہ کراچی کے لیے اہم ضرور ہے، لیکن شہر کے پانی کے تمام مسائل حل کرنے کے لیے صرف اضافی پانی کی فراہمی کافی نہیں ہوگی۔ پانی کی چوری، غیرقانونی کنکشن، فرسودہ پائپ لائنوں سے رساؤ اور غیرمنصفانہ تقسیم جیسے مسائل پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ اگر پانی کی بڑی مقدار راستے میں ضائع ہوتی رہے یا مخصوص علاقوں تک محدود رہے تو نئے منصوبے کے فوائد بھی مکمل طور پر شہریوں تک نہیں پہنچ سکیں گے۔
حکومت کو چاہیے کہ آبی نظام کا جامع آڈٹ کرائے، رساؤ کی نشان دہی کرکے پائپ لائنوں کی مرمت کرے اور غیرقانونی کنکشن کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔ پانی کی تقسیم کے لیے جدید میٹرنگ، شفاف نگرانی اور ضرورت کے مطابق فراہمی کا نظام بھی متعارف کرایا جائے۔ واٹر ٹینکرز کے نرخوں اور خدمات کی نگرانی ضروری ہے تاکہ پانی کی قلت شہریوں کے استحصال کا ذریعہ نہ بنے۔ خاص طور پر کم آمدن والے علاقوں، مضافاتی آبادیوں اور کچی بستیوں میں صاف پانی کی فراہمی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
کراچی میں پانی کی قلت کا مستقل حل وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر رابطے اور مشترکہ حکمت عملی کا تقاضا کرتا ہے۔ کے فور منصوبے کی تکمیل، پانی کی تقسیم کے نظام کی بہتری اور موجودہ وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے واضح اہداف مقرر کیے جائیں۔ متعلقہ اداروں کو ہر پندرہ روز بعد منصوبے کی پیش رفت کا جائزہ لینا چاہیے۔ اخراجات، مکمل ہونے والے کام، درپیش رکاوٹوں اور آئندہ اہداف کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ پارلیمانی کمیٹیوں اور آڈٹ اداروں کو بھی نگرانی میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ قومی وسائل کے استعمال میں شفافیت برقرار رہے۔ کراچی کے شہریوں کو مزید وعدوں کے بجائے عملی نتائج درکار ہیں۔ کے فور منصوبے کی بروقت تکمیل شہر کی معیشت، صحت اور روزمرہ زندگی کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ پانی کی منصفانہ تقسیم اور ضیاع کی روک تھام بھی ناگزیر ہے۔
آخرکار پانی کسی حکومت کا احسان نہیں بلکہ شہریوں کی بنیادی ضرورت ہے۔ کراچی میں پانی کی قلت ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کے فور منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے، اخراجات اور پیش رفت کی نگرانی کی جائے اور آبی نظام کی خامیوں کو دور کیا جائے۔ اب وقت آگیا ہے کہ کراچی کے شہریوں کو تاریخوں اور وعدوں کے بجائے گھروں میں پانی کی باقاعدہ فراہمی کی صورت میں ریلیف دیا جائے۔

شیئر کریں

https://urdu.voiceofsindh.live/why-is-karachi-thirsty/

ویب ڈیسک
مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

18 خبریں