پاکستان کے فور منصوبہ کب مکمل ہوگا؟

غلام مصطفیٰ
پانی شہریوں کا بنیادی حق ہے، کوئی کاروباری آسائش نہیں مگر کراچی میں نل خشک اور ٹینکر آباد ہیں۔ کراچی میں پانی کا بحران اب محض انتظامی کوتاہی یا موسمی مسئلہ نہیں رہا، یہ کروڑوں شہریوں کی روزمرہ زندگی، صحت، گھریلو بجٹ اور بنیادی انسانی حقوق کا سوال بن چکا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی عدم فراہمی پر احتجاج معمول بنتا جارہا ہے۔ کہیں خواتین اور بچے پانی کے حصول کے لیے قطاروں میں کھڑے ہیں، کہیں شہری کئی کئی دن نل کھلنے کا انتظار کرتے ہیں اور کہیں گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے ہزاروں روپے خرچ کرکے ٹینکر منگوانا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ملک کے سب سے بڑے شہر کے عوام آخر کب تک اپنے ہی حق کے پانی کے لیے احتجاج کرتے رہیں گے؟
کراچی کی ضرورت اور دستیاب پانی کے اعدادوشمار اس بحران کی سنگینی واضح کرتے ہیں۔ دسمبر 2025 کے اعدادوشمار کے مطابق شہر کو روزانہ قریباً 1200 ملین گیلن پانی درکار ہے جب کہ دریائے سندھ اور حب ڈیم سے مجموعی طور پر قریباً 650 ملین گیلن پانی دستیاب ہوتا ہے۔ یوں روزانہ تقریباً 550 ملین گیلن کی کمی رہ جاتی ہے۔ یہ معمولی فرق نہیں بلکہ شہر کی ضروریات اور فراہمی کے درمیان ایک بہت بڑا خلا ہے۔
اس خلا کو پُر کرنے کے لیے کے فور منصوبہ امید کی صورت میں سامنے آیا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد کراچی کو اضافی پانی فراہم کرنا اور شہر کی بڑھتی ہوئی ضروریات کا بوجھ کم کرنا تھا، لیکن افسوس کہ ایک اہم عوامی منصوبہ برسوں کی تاخیر، انتظامی پیچیدگیوں، منصوبہ بندی کی خامیوں اور مختلف اداروں کے درمیان عدم تعاون کی نذر ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ منصوبے کی لاگت بھی ابتدائی اندازے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ اکتوبر 2026 کی ایک رپورٹ کے مطابق، جس منصوبے کا ابتدائی تخمینہ قریباً 25 ارب روپے تھا، اس کی لاگت بڑھ کر قریباً 224 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اضافہ صرف مالی بوجھ نہیں، بلکہ اس سوال کو بھی جنم دیتا ہے کہ آخر منصوبہ بندی اور نگرانی کے نظام میں ایسی کون سی خامیاں ہیں جنہوں نے عوامی ضرورت کے منصوبے کو اس قدر مہنگا اور طویل بنا دیا؟
کے فور کی تقسیم و ترسیل کے لیے 94 کلومیٹر طویل آر ون، آر ٹو اور آر تھری لائنوں کا کام بھی انتہائی اہم ہے۔ اگر ایک مختصر حصے کی تکمیل میں اتنا وقت لگ رہا ہے تو شہریوں کو یہ جاننے کا حق ہے کہ پورا نظام کب فعال ہوگا اور اضافی پانی حقیقتاً ان کے گھروں تک کب پہنچے گا؟ یہاں ایک بنیادی بات سمجھنا ضروری ہے کہ کے فور صرف پانی کا منبع شہر تک لانے کا نام نہیں۔ پانی کو شہر کے مختلف علاقوں تک پہنچانے کے لیے پائپ لائنیں، پمپنگ اسٹیشن، ذخیرہ کرنے کے نظام اور تقسیم کا مؤثر نیٹ ورک بھی درکار ہے۔ اگر پانی شہر کے قریب پہنچ بھی جائے لیکن اسے آبادیوں تک پہنچانے کا نظام مکمل نہ ہو تو منصوبے کے فوائد شہریوں تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ سندھ اسمبلی میں ستمبر 2026 کو جمع کرائے گئے سرکاری جواب کے مطابق، مرکزی کے فور نظام کی قریباً 64 فیصد فزیکل پیش رفت رپورٹ کی گئی تھی جب کہ کراچی کے اندر پانی کی تقسیم بہتر بنانے کے لیے علیحدہ منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری بھی درکار ہے۔ اس سے واضح ہے کہ مرکزی منصوبے اور شہر کے اندر تقسیم کے کاموں کو ایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔
پانی کی قلت نے شہر میں ایک متوازی کاروباری نظام کو جنم دیا ہے، جہاں شہری اپنی بنیادی ضرورت پوری کرنے کے لیے مہنگے داموں ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں۔ یہ محض عوامی شکایت نہیں، اعدادوشمار بھی اس صورت حال کی نشان دہی کرتے ہیں۔ گیلپ پاکستان ڈیجیٹل اینالیٹکس کی 6 اکتوبر 2026 کی تحقیق کے مطابق کراچی کے قریباً 8 لاکھ 40 ہزار 800 گھرانے، یعنی لگ بھگ ہر چار میں سے ایک گھرانہ، پانی کے بنیادی ذریعے کے طور پر ٹینکر پر انحصار کرتا ہے۔ ایسے گھرانے ماہانہ اوسطاً نہیں بلکہ درمیانی سطح پر قریباً 3500 روپے پانی پر خرچ کرتے ہیں جب کہ شہر میں ٹینکر کے پانی پر سالانہ مجموعی خرچ قریباً 33 ارب 50 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ یہ رقم بتاتی ہے کہ پانی کی قلت نے شہری معیشت پر کتنا بڑا بوجھ ڈال رکھا ہے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب پانی شہریوں کا بنیادی حق ہے تو انہیں اپنی ہی ضرورت کا پانی خریدنے کے لیے اتنی بڑی رقم کیوں خرچ کرنا پڑرہی ہے؟ کم آمدن والے گھرانے کے لیے ماہانہ ساڑھے تین ہزار روپے بھی معمولی رقم نہیں۔ ایک مزدور، رکشا ڈرائیور، دکان دار یا تنخواہ دار شخص پہلے ہی مہنگائی، بجلی، گیس، کرایوں اور بچوں کی تعلیم کے اخراجات سے پریشان ہے۔ ایسے میں پانی خریدنا اس کے بجٹ پر ایک اضافی ضرب ہے۔ دوسری طرف جن علاقوں میں لائنوں میں پانی نہیں آتا، وہاں ٹینکر کی آمد بھی شہریوں کی ضرورت اور استطاعت کے مطابق نہیں بلکہ دستیابی اور قیمت کے تابع ہوتی ہے۔
ٹینکر کے کاروبار میں غیرقانونی ہائیڈرنٹس اور پانی کی چوری کے الزامات بھی بارہا سامنے آتے رہے ہیں۔ نومبر 2025 میں ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ شہر کے پانی کا بڑا حصہ غیرقانونی ہائیڈرنٹس کے ذریعے نکالا جاتا ہے جب کہ پرانی اور خراب پائپ لائنوں سے پانی کا ضیاع بھی بحران کو بڑھاتا ہے۔ ان دعوؤں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور نتائج عوام کے سامنے لانا ضروری ہے۔ کسی بھی غیرقانونی سرگرمی میں ملوث افراد، خواہ ان کا تعلق کسی سیاسی، انتظامی یا کاروباری حلقے سے ہو، قانون کے مطابق جواب دہ ہونے چاہئیں۔
عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ بڑے منصوبے وقت پر مکمل کیوں نہیں ہوتے؟ کیا منصوبہ بندی کے مرحلے میں زمینی حقائق کا جائزہ نہیں لیا جاتا؟ کیا یوٹیلیٹی لائنوں، بجلی، گیس، سیوریج اور ٹریفک کے مسائل پہلے سے معلوم نہیں کیے جاسکتے؟ کیا ٹھیکے دینے سے پہلے اہلیت، وسائل اور کام کی رفتار کا درست اندازہ نہیں لگایا جاتا؟ اگر کسی ادارے کی غفلت سے منصوبہ تاخیر کا شکار ہوتا ہے تو اس کی ذمے داری کس پر عائد ہوگی؟ اور اگر لاگت بڑھتی ہے تو اس اضافی مالی بوجھ کا حساب کون دے گا؟ کے فور کے معاملے میں وفاقی حکومت، واپڈا، سندھ حکومت، کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان ذمے داریوں کی تقسیم واضح ہے، مگر شہریوں کے لیے یہ تقسیم اکثر ایک دوسرے پر ذمے داری ڈالنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ عوام کو اداروں کے اختلافات سے کوئی سروکار نہیں، انہیں پانی چاہیے۔ انہیں یہ نہیں بتایا جانا چاہیے کہ فلاں کام وفاق کا ہے اور فلاں صوبے کا، بلکہ انہیں ایک واضح مشترکہ ٹائم لائن، ذمے دار افسران اور قابلِ پیمائش اہداف دیے جانے چاہئیں۔
کراچی کو پانی فراہم کرنے کے لیے چند فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے کے فور کے مرکزی نظام اور شہر کے اندر تقسیم کے تمام مراحل کی الگ الگ پیش رفت، بجٹ، ٹھیکوں اور تکمیل کی تاریخیں عوام کے سامنے رکھی جائیں۔ ہر ماہ پیش رفت رپورٹ جاری ہو اور تاخیر کی صورت میں اس کی وجوہ اور ذمے داروں کی نشان دہی کی جائے۔ منصوبے کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو، لیکن غیر ضروری تاخیر اور بار بار ڈیڈلائن تبدیل کرنے کا سلسلہ بھی ختم ہونا چاہیے۔ دوسرا اہم قدم پانی کی منصفانہ تقسیم ہے۔ شہر کے ہر علاقے کو اس کی آبادی اور ضرورت کے مطابق پانی فراہم کرنے کا قابلِ عمل شیڈول بنایا جائے۔ پانی چوری، غیرقانونی کنکشنز، غیرقانونی ہائیڈرنٹس اور لائنوں سے رساؤ کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔ ٹینکر سروس کو بھی مکمل طور پر بے قاعدہ چھوڑنے کے بجائے شفاف نگرانی، مقررہ نرخوں اور عوامی شکایات کے مؤثر نظام کے تحت لایا جائے۔ میئر کراچی کی جانب سے جنوری 2026 میں سات فعال ہائیڈرنٹس کو مرحلہ وار بند کرنے اور گھروں تک پائپ لائن کے ذریعے پانی پہنچانے کی پالیسی کا اعلان کیا گیا تھا، اب شہری اس اعلان پر عملی پیش رفت دیکھنا چاہتے ہیں۔ تیسرا، پرانے آبی نظام کی مرمت اور جدید کاری کو بھی ترجیح دی جائے۔ صرف نیا پانی شہر میں لانا کافی نہیں، اسے محفوظ طریقے سے گھروں تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ جہاں پائپ لائنیں بوسیدہ ہیں، وہاں تبدیلی اور مرمت کا کام تیز کیا جائے۔ پانی کے معیار کی باقاعدہ جانچ ہو اور شہریوں کو بتایا جائے کہ انہیں فراہم کیا جانے والا پانی پینے کے قابل ہے یا نہیں۔
حکومت کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ پانی کا بحران صرف شہری انتظامیہ کا مسئلہ نہیں بلکہ صحت، معاشرت اور معاشی انصاف سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ پانی نہ ملنے سے گھروں میں جھگڑے، بیماریوں کے خطرات، بچوں کی تعلیم اور خواتین کی روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے۔ غریب آبادیوں میں رہنے والے افراد سب سے زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں، حالانکہ ان کے پاس متبادل ذرائع اختیار کرنے کی مالی استطاعت بھی کم ہوتی ہے۔ کراچی کے شہری کسی سے خیرات نہیں مانگ رہے، وہ اپنے حق کا پانی مانگ رہے ہیں۔ انہیں وعدوں، اجلاسوں، افتتاحی تقریبات اور نئی ڈیڈلائنوں کے بجائے نلکوں میں پانی چاہیے۔ کے فور منصوبے کو سیاسی کریڈٹ لینے کا ذریعہ بنانے کے بجائے قومی اور شہری ذمے داری سمجھ کر مکمل کیا جائے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک دوسرے پر ذمے داری ڈالنے کے بجائے مشترکہ طور پر جواب دہ ہوں۔ منصوبے کی لاگت بڑھنے، کام رکنے اور تاریخیں تبدیل ہونے کا حساب عوام کو دیا جائے۔
آخر کب تک کراچی کا شہری اپنے گھر میں پانی آنے کی خوش خبری کا منتظر رہے گا؟ کب تک ایک ماں بچوں کی ضروریات کے لیے پانی کے ڈرم بھرنے کی فکر میں رہے گی؟ کب تک ایک مزدور اپنی محدود آمدن کا بڑا حصہ ٹینکر خریدنے پر خرچ کرے گا؟ یہ سوال کسی ایک محلے یا طبقے کے نہیں، پورے شہر کے ہیں۔ کراچی کو مزید وعدوں کی نہیں، پانی کی ضرورت ہے۔ کے فور کی تکمیل اب حکومتی ترجیح نہیں بلکہ عوام کے سامنے ایک امتحان ہے اور اس امتحان کا نتیجہ تقریروں سے نہیں، شہریوں کے گھروں میں پہنچنے والے پانی سے طے ہوگا۔
https://urdu.voiceofsindh.live/when-will-the-k-iv-project-be-completed/






