Skip to content
جمعہ, 30 اکتوبر 2026 ٹرینڈنگ کراچی کرکٹ صحت شوبز
بریکنگ
بلاگ

سندھ کے پیاسے شہر، سوکھتے کھیت

شیئر کریں
سندھ کے پیاسے شہر، سوکھتے کھیت

اسد احمد

پانی محض زندگی کی ایک ضرورت نہیں، انسانی وقار، معاشی سرگرمی اور سماجی انصاف کی بنیادی شرط بھی ہے۔ جس معاشرے میں کسی شہری کو پینے کے صاف پانی کے لیے دربدر ہونا پڑے، جہاں خواتین اور بچے روزانہ پانی جمع کرنے کی مشقت اٹھائیں، جہاں کسان اپنی فصل کو سیراب کرنے کے لیے نہر کے آخری سرے پر بے بسی سے پانی کا انتظار کریں، وہاں مسئلہ صرف قلت کا نہیں رہتا بلکہ حکمرانی، منصوبہ بندی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا سوال بن جاتا ہے۔ سندھ آج اسی سوال کے سامنے کھڑا ہے۔ ایک طرف کراچی جیسے بڑے شہر کی پیاس بجھانے کا وعدہ برسوں سے ادھورا ہے، دوسری جانب دیہی علاقوں میں پینے کے پانی اور زرعی آب پاشی کی مشکلات نے لاکھوں لوگوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔
کراچی کے لیے 2007 میں شروع کیا گیا کے فور منصوبہ اس ناکام منصوبہ بندی کی نمایاں مثال بن چکا ہے۔ ابتدا میں اس منصوبے کی لاگت تقریباً 15 ارب 80 کروڑ روپے تھی، جسے 2014ء میں نظرثانی کے بعد 25 ارب 50 کروڑ روپے کیا گیا۔ منصوبے کا اصل تصور دریائے سندھ اور کینجھر جھیل سے شہر کو روزانہ 650 ملین گیلن پانی فراہم کرنا تھا، مگر برسوں کی تاخیر، ڈیزائن میں تبدیلیوں اور انتظامی پیچیدگیوں نے اس کی صورت ہی بدل دی۔ اگست 2026 میں سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی کے سامنے پیش کردہ تفصیلات کے مطابق منصوبے کی لاگت 172 ارب روپے تک پہنچ چکی تھی جب کہ موجودہ پہلے مرحلے کی استعداد 650 کے بجائے 260 ملین گیلن یومیہ رہ گئی ہے۔ منصوبے کی تکمیل کی نئی متوقع مدت جون 2027 بتائی گئی۔ یوں کراچی کے شہریوں کو جس منصوبے سے پانی ملنا تھا، وہ خود برسوں سے تاخیر اور لاگت میں اضافے کی علامت بنا ہوا ہے۔
یہاں ایک اہم سوال بھی اٹھتا ہے۔ کیا منصوبے کی لاگت بڑھنے اور اس کی تکمیل میں تاخیر کی وجوہ کا کبھی مکمل، شفاف اور غیر جانب دار احتساب ہوگا؟ مئی 2026 میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے منصوبے کی تاخیر، لاگت میں اضافے، شفافیت، کام کے معیار اور فنڈز کے استعمال پر تشویش ظاہر کی تھی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ لاگت 25 ارب روپے کے ابتدائی تخمینے سے بڑھ کر تقریباً 171 ارب روپے ہوچکی ہے۔ ستمبر میں ہونے والے جائزہ اجلاس میں متعلقہ محکموں سے مطلوبہ دستاویزات اور منصوبے کا تفصیلی روڈمیپ فراہم نہ کیے جانے پر بھی اعتراض کیا گیا۔ یہ محض دفتری کارروائی کی خامی نہیں، عوامی خزانے سے اربوں روپے خرچ ہونے والے منصوبے میں معلومات کی عدم دستیابی جمہوری نگرانی اور جواب دہی دونوں کو کمزور کرتی ہے۔ کراچی کی پانی کی صورت حال بھی کسی وضاحت کی محتاج نہیں۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے پیش کردہ اعدادوشمار کے مطابق 2024 میں شہر کی یومیہ ضرورت قریباً 1200 ملین گیلن تھی جب کہ فراہمی لگ بھگ 650 ملین گیلن رہی۔ یعنی روزانہ قریباً 550 ملین گیلن کا فرق موجود تھا۔ 2026 میں بھی یہی خلا شہریوں کو متاثر کرتا رہا۔ مئی میں ایک بڑی لائن کی تبدیلی اور پمپنگ اسٹیشن پر خرابی کے باعث فراہمی میں کمی ہوئی تو کئی علاقوں میں پانی کی قلت شدید ہوگئی۔ بعض مقامات پر شہریوں نے بتایا کہ انہیں کئی دن انتظار کے باوجود ٹینکر نہیں مل سکا جب کہ نجی ٹینکروں کے نرخ دوگنا ہونے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔
یہ صورت حال ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے: پانی کی قلت صرف نلکوں کو خشک نہیں کرتی، یہ گھریلو بجٹ، صحت، تعلیم اور روزگار پر بھی ضرب لگاتی ہے۔ کم آمدن والا خاندان جب پینے اور روزمرہ استعمال کے لیے مہنگا پانی خریدتا ہے تو اس کے پاس خوراک، علاج اور بچوں کی تعلیم کے لیے رقم کم رہ جاتی ہے۔ دوسری طرف پانی کی بے یقینی فراہمی شہری زندگی میں طبقاتی تقسیم کو مزید گہرا کرتی ہے۔ جن کے پاس وسائل ہیں وہ ٹینکر خرید لیتے ہیں، مگر غریب آبادیوں کے مکین کبھی قطار، کبھی انتظار اور کبھی غیر محفوظ ذرائع پر انحصار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ پانی کا حق اس بنیاد پر تقسیم نہیں ہونا چاہیے کہ کس گھر کا بجٹ کتنا بڑا ہے۔ تاہم سندھ کا آبی بحران کراچی تک محدود نہیں۔ حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، سجاول، عمرکوٹ اور تھرپارکر کے کئی علاقوں میں پانی کی دستیابی، معیار اور رسائی کے مسائل مسلسل توجہ چاہتے ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی مردم شماری 2023 کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں گھر کے اندر پینے کے پانی کی سہولت کا صوبائی تناسب 63.63 فیصد تھا جب کہ بعض اضلاع، خصوصاً تھرپارکر، عمرکوٹ، ٹھٹھہ اور کیماڑی میں رسائی نسبتاً کم ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ پانی کا مسئلہ صرف بڑے شہروں کی آبادیوں کا نہیں بلکہ دیہی اور پس ماندہ علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی غیر مساوی تقسیم کا بھی ہے۔
پانی کی فراہمی کے ساتھ اس کے محفوظ ہونے کا سوال بھی اتنا ہی اہم ہے۔ یونیسیف کے پاکستان سے متعلق اعدادوشمار کے مطابق ملک کی صرف 45 فیصد آبادی کو محفوظ طریقے سے منظم پینے کے پانی کی سہولت میسر ہے۔ یہ قومی سطح کا اشاریہ ہے، سندھ کا الگ تناسب نہیں، مگر اس سے ملک میں پانی کے معیار اور فراہمی کے وسیع مسئلے کی سنگینی ضرور واضح ہوتی ہے۔ آلودہ پانی ہیضہ، اسہال اور دیگر بیماریوں کے خطرات بڑھاتا ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ بچوں، بزرگوں اور کمزور طبقات کو اٹھانا پڑتا ہے۔ لہٰذا پانی کی پالیسی میں صرف مقدار بڑھانے کے بجائے صفائی، ٹریٹمنٹ، نگرانی اور معیار کی باقاعدہ جانچ کو بھی مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔
سندھ کی زراعت کا معاملہ اس سے بھی زیادہ حساس ہے۔ صوبے کی معیشت، دیہی روزگار اور غذائی تحفظ کا بڑا حصہ آب پاشی کے نظام سے جڑا ہوا ہے۔ اگر نہروں کے ابتدائی حصوں میں پانی کی فراہمی نسبتاً بہتر ہو اور آخری سرے کے کاشت کار اپنے حصے کے پانی سے محروم رہیں تو اس کا اثر صرف ایک فصل پر نہیں پڑتا، پورے دیہی معاشی ڈھانچے پر پڑتا ہے۔ عالمی بینک کی 2019ء کی ماحولیاتی پالیسی رپورٹ میں پاکستان کے نہری نظام کے بارے میں نشان دہی کی گئی کہ نہروں کے آخری حصے کے کسانوں کو اکثر اپنے حصے کا پانی نہیں ملتا۔ رپورٹ نے اس کی وجوہ میں نہروں کی خستہ حالت، بالائی حصوں میں پانی کی چوری اور انتظامی بدعنوانی کو شامل کیا۔ اس کے مطابق ٹیل اینڈ کے کاشت کار بعض صورتوں میں نہر کے ابتدائی حصوں کے کسانوں کے مقابلے میں ایک تہائی سے بھی کم پانی حاصل کرتے ہیں۔ یہ قومی سطح کے نظام سے متعلق تجزیہ ہے، مگر سندھ کے آب پاشی نظام کے لیے بھی ایک سنجیدہ تنبیہ ہے۔
دریائے سندھ کا ڈیلٹا بھی اسی آبی بحران کا ایک اہم پہلو ہے۔ کوٹری بیراج سے نیچے میٹھے پانی کے مناسب بہاؤ میں کمی، سمندری پانی کی پیش قدمی، زمین کی نمکیات میں اضافہ اور مینگرووز کے قدرتی ماحول کو لاحق خطرات ساحلی آبادیوں کے مستقبل سے جڑے ہوئے ہیں۔ سندھ یونیورسٹی کے تحقیقی جریدے میں شائع شدہ ایک تحقیق نے ڈیلٹا میں میٹھے پانی کی قلت اور سمندری پانی کی دراندازی کو زمین کی زرخیزی اور مقامی آبادیوں کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔ اگر دریائی بہاؤ، ماحولیاتی تقاضوں اور ساحلی تحفظ کو ایک مربوط پالیسی میں نہ سمویا گیا تو اس کے اثرات ماہی گیری، زراعت، حیاتیاتی تنوع اور مقامی آبادیوں کی نقل مکانی تک پھیل سکتے ہیں۔ اس صورت حال کا حل محض نئے منصوبوں کے اعلانات یا وقتی یقین دہانیوں میں پوشیدہ نہیں۔ سب سے پہلے کے فور کے ہر مرحلے، لاگت، فنڈز، ٹھیکوں اور تکمیل کی مدت سے متعلق معلومات عوام کے سامنے باقاعدگی سے رکھی جائیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی اپنی ذمے داریوں کا واضح تعین کریں، کیونکہ مرکزی ترسیلی نظام اور کراچی کے اندر پانی کی تقسیم و توسیع دو الگ مگر باہم مربوط کام ہیں۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے بھی متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے، دستاویزات اور تحریری ٹائم لائنز کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد بھی پانی کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا لازم ہوگا، ورنہ اضافی پانی بھی رساؤ، غیر قانونی کنکشنز اور غیر مساوی ترسیل کی نذر ہوسکتا ہے۔
اسی طرح نہری نظام میں پانی کی پیمائش، نگرانی اور تقسیم کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔ ہر شاخ اور ہر ٹیل تک پانی کی دستیابی کا قابلِ تصدیق ریکارڈ مرتب کیا جائے، غیر قانونی کٹاؤ اور پانی کے ضیاع کے خلاف کارروائی ہو اور شکایات کے ازالے کے لیے کسانوں کو مؤثر فورم فراہم کیا جائے۔ شہری علاقوں میں لیکیج، غیر قانونی کنکشنز، پرانی پائپ لائنوں اور نکاسی و فراہمی کے ناقص نظام کی اصلاح بھی ناگزیر ہے۔ پانی کے ضیاع کو روکنا نئے ذخائر اور بڑے منصوبوں کی تعمیر جتنا ہی اہم ہے۔ سندھ کے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی حکومت سے پوچھیں: ان کے حصے کا پانی کہاں ہے؟ منصوبے مقررہ وقت پر کیوں مکمل نہیں ہوتے؟ اربوں روپے کے اضافی اخراجات کا حساب کون دے گا؟ نہر کے آخری سرے پر کھڑا کسان اپنے حصے کے پانی کے لیے کس دروازے پر دستک دے؟ یہ سوال کسی جماعت، زبان یا علاقے کے خلاف نہیں، بلکہ عوامی حق، شفافیت اور آئینی ذمے داری کے حق میں ہیں۔ پانی کو سیاسی مصلحت، انتظامی غفلت یا بااثر حلقوں کی اجارہ داری کے سپرد نہیں کیا جاسکتا۔ حکمرانوں کی کارکردگی کا اصل پیمانہ تقریروں اور وعدوں سے نہیں، شہری کے گھر تک پہنچنے والے صاف پانی اور کسان کے کھیت تک پہنچنے والی منصفانہ آب پاشی سے طے ہوگا۔ اگر آج پانی کی تقسیم کو انصاف، دیانت اور جواب دہی کے اصولوں پر استوار نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں ہمیں صرف ایک ناکام منصوبے کے لیے نہیں بلکہ ایک پورے آبی مستقبل کو ضائع کرنے کے لیے بھی یاد رکھیں گی۔

شیئر کریں

https://urdu.voiceofsindh.live/sindhs-thirsty-cities-and-parched-fields/

ویب ڈیسک
مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

18 خبریں