بلاگ اصل دولت

بلال ظفر سولنگی
سردی کی ایک یخ بستہ رات تھی۔ شہر کی سنسان اور تاریک گلی میں ہوائیں سرسرارہی تھیں، جن میں ٹھنڈک کے ساتھ ساتھ ایک درد محسوس ہوتا تھا۔ اس ویران گلی کے ایک کونے میں، فٹ پاتھ کے کنارے، ستر سالہ بابا عنایت ایک ٹھیلے کے نیچے بیٹھے اپنے کانپتے ہاتھوں کو پرانی چادر میں چھپانے کی ناکام کوشش کررہے تھے۔ بابا عنایت کی زندگی کبھی خوش حال تھی، لیکن وقت کی گردش اور بچوں کی بے رخی نے انہیں اس موڑ پر لاکھڑا کیا تھا جہاں اپنوں کی بھیڑ میں بھی انسان اکیلا رہ جاتا ہے۔ ان کے پاس اب زندگی گزارنے کا واحد سہارا ایک خستہ حال چائے کا کیٹل اور چند مٹی کے پیالے تھے، جن سے اٹھنے والی ہلکی سی بھاپ ہی اس اندھیرے میں ان کی امید کی واحد کرن تھی۔
اسی محلے میں ایک نوجوان رہتا تھا جس کا نام عمار تھا۔ عمار یونیورسٹی کا طالب علم ہونے کے ساتھ ساتھ شام کو ایک چھوٹے سے نجی ادارے میں نوکری کرتا تھا۔ وہ روزانہ رات کو جب تھکا ہارا گھر لوٹتا، تو بابا عنایت کے کیٹل سے اٹھتی چائے کی خوشبو اسے اپنی طرف کھینچ لیتی۔ عمار کے دل میں اس بوڑھے انسان کے لیے ایک عجیب سا احترام اور نرم گوشہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اس عمر میں جب انسان کو سکون اور اپنوں کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے، تب بابا عنایت سرد راتوں میں لوگوں کے لیے چائے بناکر اپنے رزق کا سامان تلاش کرتے ہیں۔ ایک رات جب کڑاکے کی سردی پڑ رہی تھی اور تیز ہوا کی وجہ سے ٹھیلے پر رکھا چھوٹا سا بلب بار بار جھپک رہا تھا، عمار کا گزر اس طرف سے ہوا۔ اس نے دیکھا کہ بابا عنایت شدید کھانسی کی زد میں ہیں اور ان کا جسم بخار سے تپ رہا ہے۔ ان کے پاس کوئی کمبل یا گرم چادر نہیں تھی، سوائے ایک پھٹے پرانے سوئیٹر کے۔ عمار کا دل بھر آیا۔ وہ فوراً آگے بڑھا، اپنا کوٹ اتار کر بابا عنایت کے کندھوں پر ڈالا اور بولا، "بابا جی! اس طرح اس کھلے آسمان کے نیچے اس سردی میں آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہوجائے گی۔ آپ گھر کیوں نہیں چلے جاتے؟”
بابا عنایت نے کمزور نظروں سے دیکھا، لبوں پر ایک تلخ سی مسکراہٹ لائے اور بولے، "بیٹا! گھر اب اپنوں کے لیے نہیں رہا اور پیٹ کی آگ کو بُجھانے کے لیے چھت نہیں، دو وقت کی روٹی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آج کام نہ کیا، تو کل کا سورج دیکھنا نصیب ہوگا یا نہیں، خدا ہی جانتا ہے۔”
عمار نے کچھ دیر سوچا، اس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ اس نے بابا عنایت کا کیٹل اور سامان اپنے ایک اور دوست کی مدد سے محفوظ جگہ پر رکھوایا اور بابا کو زبردستی اپنے ساتھ ایک چھوٹے سے قریبی اسپتال لے گیا۔ پوری رات عمار اسپتال کے چکر لگاتا رہا، ڈاکٹر سے منتیں کرتا رہا اور اپنی جیب سے بابا کی دوائیں خریدتا رہا۔ صبح کی پہلی کرن کے ساتھ جب بابا کی حالت کچھ بہتر ہوئی، تو انہوں نے عمار کے سر پر ہاتھ رکھا اور دعائیں دیں، جن سے عمار کا پورا وجود تر ہوگیا۔
لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔ عمار نے سوچا کہ صرف ایک دن کی مدد سے اس بوڑھے انسان کی زندگی نہیں بدلے گی۔ اس نے اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر سوشل میڈیا پر ایک چھوٹی سی مہم شروع کی، جس کا مقصد غریب اور بے سہارا بزرگوں کے لیے سردیوں میں گرم کپڑے اور رات کا کھانا فراہم کرنا تھا۔ لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ صرف ایک ہفتے کے اندر اتنے فنڈز جمع ہوگئے کہ نہ صرف بابا عنایت کے لیے ایک مستقل اور محفوظ چھوٹا سا کھوکھا بن گیا، بلکہ محلے کے دوسرے نادار افراد کو بھی مفت کھانا اور کمبل ملنے لگے۔
کچھ مہینے گزر گئے۔ اب بابا عنایت کھلے آسمان کے نیچے نہیں بلکہ ایک عزت کی چھت کے نیچے بیٹھتے تھے۔ ان کی دکان پر اب چائے کے ساتھ ساتھ مسکراتے ہوئے چہرے بھی ہوتے تھے۔ محلے کے بچے اب اسکول جاتے ہوئے بابا کو سلام کرتے اور بابا انہیں محبت سے ٹافیاں دیتے۔ ایک شام جب سورج غروب ہورہا تھا اور فضا میں ایک سکون سا اترا ہوا تھا، عمار بابا عنایت کی دکان پر چائے پینے آیا۔ بابا نے اپنے کانپتے ہاتھوں سے مٹی کا پیالہ عمار کی طرف بڑھایا، ان کی آنکھوں میں آنسو تھے لیکن اس بار وہ آنسو درد کے نہیں بلکہ سکون اور خوشی کے تھے۔ انہوں نے عمار کا ہاتھ پکڑ کر کہا، "بیٹا! تُو نے مجھے صرف چھت یا روٹی نہیں دی، تُو نے اس اُجڑے ہوئے انسان کو دوبارہ انسان ہونے کا احساس دلایا ہے۔ جب تک تجھ جیسے جوان زندہ ہیں، انسانیت کا یہ چراغ کبھی نہیں بجھے گا۔”
عمار نے مسکراکر بابا کے ہاتھ کو چوما اور دل ہی دل میں سوچا کہ اصل دولت وہ نہیں جو انسان اپنے لیے جمع کرتا ہے، بلکہ وہ ہے جو کسی دوسرے کے چہرے پر ایک چھوٹی سی مسکراہٹ اور زندگی کی امید واپس لے آئے۔ یہی انسانیت کی اصل معراج اور فلاح و بہبود کی سب سے بڑی مثال ہے۔
https://urdu.voiceofsindh.live/true-wealth/




