بلاگ سندھ میں پانی کا سنگین بحران

دانیال جیلانی
پانی کی قلت اب موسموں کی محتاج نہیں رہی۔ یہ سندھ کے شہروں، قصبوں اور دیہات میں زندگی کا مستقل مسئلہ بنتی جارہی ہے۔ کبھی کراچی کے کسی علاقے میں کئی روز تک نل خشک رہتے ہیں، کبھی حیدرآباد اور میرپورخاص کے شہری پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں اور کبھی دیہی سندھ کے لوگ پینے کے قابل پانی کی تلاش میں میلوں سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ پانی کی یہ محرومی صرف پیاس نہیں بڑھاتی، بلکہ صحت، تعلیم، روزگار، زراعت اور معاشرتی انصاف کے پورے نظام کو متاثر کرتی ہے۔ کراچی کی صورت حال اس بحران کی سب سے نمایاں تصویر ہے۔ سندھ اسمبلی میں محکمہ بلدیات کی جانب سے پیش کردہ جواب کے مطابق شہر کو تقریباً 630 ملین گیلن پانی یومیہ فراہم کیا جارہا ہے جب کہ گھریلو اور صنعتی ضروریات سمیت مجموعی طلب قریباً 1200 ملین گیلن روزانہ ہے۔ یعنی دستیاب فراہمی اور ضرورت کے درمیان قریباً 570 ملین گیلن کا فرق موجود ہے۔ اسی جواب میں بتایا گیا کہ قلت کے باعث بیشتر علاقوں میں پانی شیڈول کے تحت فراہم کیا جاتا ہے اور بعض آخری سرے کے علاقوں تک پانی تیسرے ہفتے پہنچتا ہے۔ یہ اعداد محض انتظامی رپورٹ کا حصہ نہیں، لاکھوں شہریوں کی روزمرہ زندگی کی تلخ حقیقت ہیں۔
یہ بحران صرف پانی کی مقدار کا نہیں، اس کی تقسیم کا بھی ہے۔ شہر کے ایک حصے میں شہری ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں جب کہ دوسرے حصوں میں پانی کی دستیابی نسبتاً بہتر دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب سرکاری نظام خود طلب اور رسد کے درمیان اتنا بڑا فرق تسلیم کرتا ہے تو پھر پانی کی منصفانہ تقسیم کا قابلِ پیمائش نظام کہاں ہے؟ ہر علاقے کا مختص کوٹہ، حقیقی فراہمی، لائنوں میں ضائع ہونے والا پانی اور غیر قانونی کنکشنز کی تفصیلات عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھی جاتیں؟ پانی کی تقسیم اگر شفاف نہیں ہوگی تو محرومی کے ساتھ بداعتمادی بھی بڑھے گی۔ رواں سال اپریل اور مئی میں کراچی نے ایک بار پھر شدید آبی بحران کا سامنا کیا۔ دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی خرابی اور بڑی ترسیلی لائنوں کو نقصان پہنچنے سے شہر کی فراہمی متاثر ہوئی۔ ڈان کی یکم مئی 2026 کی رپورٹ کے مطابق ایک مرحلے پر قریباً 250 ملین گیلن یومیہ کی کمی پیدا ہوئی جب کہ متعدد علاقوں میں کئی روز تک پانی کی فراہمی متاثر رہی۔ اس بحران نے واضح کردیا کہ کراچی کا نظام چند بڑی لائنوں، پمپنگ اسٹیشنوں اور بجلی کی مسلسل فراہمی پر کس قدر منحصر ہے۔ ایک مقام پر خرابی پورے شہر کے معمولات کو درہم برہم کرسکتی ہے۔ یہاں بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ضروریات کے مطابق متبادل نظام تیار کیا ہے؟ کیا اہم پمپنگ اسٹیشنوں کے لیے قابلِ اعتماد متبادل بجلی، ہنگامی ذخائر اور متبادل ترسیلی راستے موجود ہیں؟ اگر ایک لائن کی مرمت کے دوران لاکھوں شہریوں کو پانی کی فراہمی متاثر ہوجاتی ہے تو یہ محض تکنیکی خرابی نہیں، منصوبہ بندی میں موجود کمزوری کی نشان دہی بھی ہے۔
کراچی کے لیے کے فور منصوبے سے امیدیں وابستہ ہیں۔ دسمبر 2025 میں سندھ حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق منصوبے کے ذریعے کینجھر جھیل سے 260 ملین گیلن یومیہ پانی کراچی پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اسی منصوبے کے شہری نظام سے منسلک کرنے کے لیے آر ون، آر ٹو اور آر تھری جیسے ذخائر اور اضافی ترسیلی نیٹ ورک کی منصوبہ بندی بھی بیان کی گئی۔ یہ منصوبہ یقیناً اہم ہے، لیکن اصل کامیابی صرف پانی کراچی تک پہنچانے میں نہیں، اسے ہر علاقے کے گھر تک منصفانہ انداز میں پہنچانے میں ہوگی۔ اگر بلک سپلائی بڑھ جائے مگر پرانی لائنیں، رساؤ، غیر متوازن تقسیم اور انتظامی کمزوریاں برقرار رہیں تو اضافی پانی بھی شہریوں کی پیاس پوری نہیں کرسکے گا۔
کراچی کے بحران کو سندھ کے دیہی علاقوں سے الگ کرکے بھی نہیں دیکھا جاسکتا۔ عالمی بینک کے وفد کے ساتھ اکتوبر 2025ء میں ہونے والی ملاقات کے دوران سامنے آنے والی معلومات کے مطابق دیہی سندھ کے 90 فیصد سے زائد گھرانے پینے کے پانی کا بندوبست خود کرتے ہیں اور ان میں سے بہت سے آلودہ زیرِ زمین پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ اسی اجلاس میں یہ بھی نشان دہی کی گئی کہ ماضی میں پانی اور صفائی کے منصوبے تعمیر تو کیے گئے، لیکن مناسب دیکھ بھال اور مستقل انتظام نہ ہونے کے باعث ان سے مطلوبہ فائدہ حاصل نہ ہوسکا۔ یہ اعداد ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں: سندھ کا مسئلہ صرف نئے منصوبے شروع کرنے کا نہیں، پہلے سے موجود سہولتوں کو فعال رکھنے کا بھی ہے۔ کسی گاؤں میں پانی کی اسکیم تعمیر کرکے اس کا افتتاح کردینا کافی نہیں۔ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ پمپ چل رہا ہے یا نہیں، بجلی کا بل کون ادا کرتا ہے، فلٹریشن پلانٹ فعال ہے یا بند، پانی کے نمونے باقاعدگی سے جانچے جاتے ہیں یا نہیں اور خرابی کی صورت میں مرمت کتنے دن میں ہوتی ہے۔ عوام کو عمارتیں اور مشینری نہیں، مسلسل اور محفوظ پانی درکار ہے۔
پانی کی فراہمی کے ساتھ اس کے معیار کا سوال بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق پاکستان کے قریباً 70 فیصد گھرانے اب بھی بیکٹیریا سے آلودہ پانی استعمال کرتے ہیں۔ ادارے نے ناقص پانی اور صفائی کو بچوں میں اسہال اور غذائی قلت کے خطرات سے بھی جوڑا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پانی کی کمی کا حل صرف مقدار بڑھانا نہیں، بلکہ اسے انسانی صحت کے لیے محفوظ بنانا بھی ہے۔
سندھ میں پانی کے بحران کا ایک پہلو زراعت اور دیہی معیشت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جب نہروں کی فراہمی متاثر ہوتی ہے، آبی گزرگاہوں کی صفائی اور دیکھ بھال نہیں ہوتی یا زیرِ زمین پانی کا معیار خراب ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف فصل پر نہیں پڑتا، کسان کی آمدن، دیہی روزگار اور غذائی تحفظ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ شہری آبادی کو پانی فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کرتے وقت دیہی سندھ کی ضروریات کو نظرانداز کرنا بھی درست نہیں۔ پانی ایک مشترکہ قدرتی وسیلہ ہے، اسے شہری اور دیہی تقسیم کی سیاسی بحث سے نکال کر انسانی ضرورت، زرعی معیشت اور ماحولیاتی تحفظ کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ اب وقت آگیا ہے کہ سندھ میں پانی کے مسئلے کو وقتی اعلانات اور ہنگامی ٹینکرز سے آگے بڑھ کر ایک جامع آبی پالیسی کے ذریعے حل کیا جائے۔ اس پالیسی میں چند اقدامات فوری اہمیت رکھتے ہیں: کراچی سمیت تمام بڑے شہروں میں پانی کی طلب، دستیابی اور علاقے وار تقسیم کا مستند ڈیٹا عوام کے سامنے رکھا جائے؛ پرانی اور رسنے والی پائپ لائنوں کی تبدیلی کے لیے واضح مدت مقرر ہو، غیر قانونی کنکشنز اور پانی چوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے؛ ہر یونین کونسل میں پانی کے معیار کی باقاعدہ جانچ ہو، دیہی واٹر سپلائی اسکیموں کے لیے مستقل بجٹ اور پیشہ ورانہ دیکھ بھال کا نظام قائم کیا جائے اور بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، زیرِ زمین آبی ذخائر کی بحالی اور استعمال شدہ پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے منصوبوں پر سنجیدگی سے کام کیا جائے۔ کراچی کے لیے حب ڈیم سے پانی کی فراہمی بڑھانے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ اپریل 2026 میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق شہر کا موجودہ حصہ 100 ملین گیلن یومیہ سے بڑھا کر 200 ملین گیلن کرنے کی تجویز متعلقہ حکام کو بھیجی گئی تھی۔ یہ پیش رفت اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پانی کے متبادل ذرائع اور موجودہ ذخائر کی بہتر منصوبہ بندی کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔ حکومت کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ پانی کی فراہمی محض بلدیاتی خدمت نہیں، شہری کا بنیادی حق اور ریاست کی بنیادی ذمے داری ہے۔ جس گھر میں پینے کا پانی نہ ہو وہاں ترقیاتی منصوبوں کے بڑے اعلانات اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔ جس ماں کو بچوں کے لیے پانی خریدنا پڑے، جس مزدور کی آمدن کا حصہ ٹینکر پر خرچ ہو اور جس کسان کی فصل پانی نہ ملنے سے سوکھ جائے، اس کے لیے ترقی کا پیمانہ صرف سڑکیں، پل اور عمارتیں نہیں ہوسکتیں۔
سندھ کو پانی کے بحران سے نکالنے کے لیے نئی اسکیموں کے ساتھ نئی سوچ بھی درکار ہے۔ پانی کہاں سے آئے گا، کس مقدار میں آئے گا، کس علاقے کو کتنا ملے گا، اس کا معیار کون جانچے گا اور نظام کی ناکامی پر جواب دہ کون ہوگا، ان سوالات کے واضح جواب ہی حقیقی تبدیلی کی بنیاد بن سکتے ہیں، کیونکہ پانی کی فراہمی کسی حکومت کا احسان نہیں، عوام کا حق ہے اور اس حق کی حفاظت ہی کسی مہذب، ذمے دار اور جواب دہ نظام کی اصل پہچان ہے۔
https://urdu.voiceofsindh.live/severe-water-crisis-in-sindh/






