بلاگ وقت کا انصاف

محمد راحیل وارثی
شام کا وقت تھا اور حویلی کا بڑا سا برآمدہ سرد ہواؤں کی لپیٹ میں تھا، بالکل اسی طرح جیسے وہاں موجود انسان کا وجود بے حسی کی برف میں جم چکا تھا۔ اس برآمدے کے ایک کونے میں رکھی پرانی، زنگ آلود چارپائی پر بیٹھا وہ شخص آج کل صرف سانسیں گن رہا تھا۔ کبھی اس کا نام سن کر بڑے بڑے بااثر وڈیرے اور زمیندار تھر تھر کانپتے تھے۔ اس کا نام سکندر تھا، پر لوگ اسے "سکندرِ گِرا” کہتے تھے، کیونکہ وہ جس زمین، مکان یا جائیداد پر آنکھ رکھ دیتا تھا، چند ہی دنوں میں وہ تمام کاغذات میں بدل کر اس کے نام ہو جاتی تھی۔
جوانی کے دنوں میں سکندر کسی بلا کا نام تھا۔ لمبا قد، چوڑی چھاتی اور آنکھوں میں ایسی دہشت کہ سامنے والا بغیر کچھ کہے اپنا سب کچھ چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوجاتا۔ اس وقت نہ اسے کسی مظلوم کی آہ کا ڈر تھا اور نہ ہی کسی کی بددعا کا اثر۔ عدالتیں، تھانے، پٹواری اور قانون سب اس کے بے نام اشاروں پر ناچتے تھے۔ اس نے زندگی بھر بے سہارا عورتوں کی زمینیں، یتیموں کا حق اور غریب کسانوں کی زرخیز زمینوں پر زبردستی قبضہ کیا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ سکندر کے ہاتھ میں جیسے کوئی جادو ہے جو دوسروں کی محنت اور نسلوں کی کمائی کو پل بھر میں ہڑپ کر لیتا ہے۔
اس نے اپنے پاس بے پناہ دولت جمع کرلی تھی، بڑے بڑے محلات کھڑے کرلیے تھے اور بینک اکاؤنٹس میں اربوں روپیہ جمع تھا۔ جب بھی کوئی بوڑھا یا بزرگ اسے نصیحت کرتا کہ "سکندر! یہ مالِ حرام ہے، اس کی پکڑ ایسی ہوگی کہ روح کانپ جائے گی،” تو وہ قہقہہ لگاکر کہتا: "زور جس کا ہے، حکومت اسی کی ہے! طاقتور کے لیے کوئی گناہ نہیں ہوتا۔”
سکندر کی پوری زندگی اسی گھمنڈ، تکبر اور ظلم میں گزر گئی۔ اس نے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کی پرورش بھی بالکل اسی ماحول میں کی۔ انہیں ہر وہ چیز دی جو مانگنے سے پہلے ان کے سامنے آ سکتی تھی۔ بیٹے لندن اور امریکا سے پڑھ کر آئے تھے اور بیٹی کی شادی بھی شہر کے سب سے امیر اور بااثر گھرانے میں کی گئی تھی۔ سکندر یہ سمجھتا تھا کہ اس نے اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کردیا ہے اور انہیں ایسی دولت دے دی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔
لیکن وقت کا پہیہ گھوما اور جوانی کی طاقت ڈھلنے لگی۔ آج سکندر کی عمر 80 سال کے قریب تھی۔ جسم کا ہر جوڑ دُکھ رہا تھا، آنکھوں کی روشنی ختم ہو چکی تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اب اپنے بستر سے اٹھنے کے قابل بھی نہیں رہا تھا۔ اب وہ "سکندرِ گِرا” نہیں رہا تھا، بلکہ ایک بے بس اور لاچار بوڑھا تھا جس کی محتاجی کا عالم یہ تھا کہ پانی کا گلاس اٹھانے کے لیے بھی دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانا پڑتا تھا۔ اور یہیں سے اصل امتحان شروع ہوا، یا یوں کہیے کہ قدرت کا انصاف اپنے پورے جلال کے ساتھ سامنے آیا۔
جن بیٹوں کے لیے اس نے پوری زندگی حلال و حرام کی تمیز مٹاکر زمینیں ہڑپ کی تھیں، جن کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے اس نے کتنے ہی گھر اجاڑے تھے، آج وہی بیٹے اپنے باپ کی موجودگی سے تنگ آچکے تھے۔ بڑے بیٹے نے ایک روز گھر میں کھل کر بات کی: "بابا اب صرف اس گھر کا بجلی اور دواؤں کا خرچ بڑھا رہے ہیں۔ ان کی بیماری پر جو روپیہ لگتا ہے، اگر وہی پیسہ ہم اپنے بزنس میں لگائیں تو زیادہ بہتر ہے۔” شروع میں تو سکندر نے سوچا کہ یہ کوئی مذاق ہے یا تھکن کی وجہ سے بچوں کا دماغ خراب ہوا ہے۔ لیکن جب اگلے دن اس کا کھانا ایک کونے میں رکھ دیا گیا اور کسی نے حال تک نہ پوچھا، تب اسے احساس ہوا کہ معاملہ کیا ہے۔
چھوٹے بیٹے نے باپ کے کمرے میں آ کر صاف الفاظ میں کہا: "آپ نے ہمارے لیے جو کچھ کیا، وہ آپ کا فرض تھا۔ لیکن اب آپ اس گھر پر بوجھ ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو کھانا ملتا رہے، تو اپنی تمام جائداد اور بینک اکاؤنٹس ہمارے نام ٹرانسفر کر دیں۔” سکندر کی روح کانپ اٹھی۔ وہی ہاتھ جن سے اس نے دوسروں کے انگوٹھے زبردستی کاغذوں پر لگوائے تھے، آج اپنے ہی بیٹوں کے سامنے کاغذات پر دستخط کرنے کے لیے کانپ رہے تھے۔ اس نے اپنی زندگی کی پوری کمائی، جو اس نے ظلم اور زبردستی سے جوڑی تھی، اپنے ہی بیٹوں کے ہاتھ میں بے بس ہو کر سونپ دی۔
اب حالت یہ تھی کہ گھر کے نوکر بھی سکندر کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے تھے۔ جو شخص کبھی ایک اشارے پر ہزاروں کو جھکا لیتا تھا، آج وہ اپنی ہی اولاد کے سامنے ایک بے جان لاش کی طرح پڑا رہتا تھا۔ رات کے سناٹے میں جب درد سے اس کا جسم ٹوٹ رہا ہوتا تھا اور گلے میں پیاس کی شدت ہوتی تھی، تو وہ پانی کے لیے آواز دیتا تھا۔ کئی بار گھنٹوں تک کوئی پانی دینے نہیں آتا تھا۔ جب کوئی بیٹا یا بہو آتی بھی، تو طعنہ دیتی: "بوڑھے! اتنا ظلم کیا تھا تم نے لوگوں پر، آج اپنا انجام دیکھ لو۔ جس طرح تم نے دوسروں کو رلایا تھا، آج تمہاری اپنی اولاد تمہیں پل پل رلا رہی ہے۔”
سکندر کی آنکھوں سے خون کے آنسو بہتے تھے۔ وہ رات بھر کروٹیں بدلتا اور سوچتا کہ میں نے کتنی بڑی بے وقوفی کی تھی۔ میں نے دولت کے پیچھے بھاگتے بھاگتے انسانیت کو مار دیا تھا۔ میں نے دوسروں کی آہ کو اپنے پاؤں کی دھول سمجھ لیا تھا، لیکن یہ بھول گیا تھا کہ قدرت کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ جس زمین پر میں نے قبضہ کیا تھا، وہ زمین تو یہیں رہ گئی، لیکن میرا ایمان، میری عزت، اور میری آخرت برباد ہوگئی۔ اور پھر ایک ایسی سرد رات آئی، جب سکندر کی سانسیں اکھڑنے لگی۔ اس نے آخری بار کمرے کے دروازے کی طرف دیکھا کہ شاید کوئی بیٹا، کوئی بیٹی آ کر اس کا ہاتھ تھام لے، یا پانی کا ایک گھونٹ منہ سے لگا دے۔ لیکن دروازہ بند ہی رہا۔ کسی کو پروا نہیں تھی کہ اس گھر کا مالک، جس نے سب کچھ انہی کے لیے بنایا تھا، کہاں اور کس حال میں مر رہا ہے۔
جب صبح ہوئی اور نوکر کمرے میں داخل ہوا، تو سکندر کی سانسیں رک چکی تھیں۔ اس کے چہرے پر بے بسی، خوف اور بے پناہ پچھتاوے کی لکیریں صاف دِکھ رہی تھیں۔ وہ دنیا سے گیا تو ایسے حالات میں گیا کہ نہ صرف اس کی دولت کسی کام آئی، بلکہ اس کی موت پر رونے والا بھی کوئی اپنا نہیں تھا۔ یہ کہانی صرف سکندر کی نہیں تھی، یہ ہر اس شخص کے لیے ایک سبق ہے، جو یہ سمجھتا ہے کہ زور اور طاقت سے حاصل کی گئی حرام کی دولت ہمیشہ ساتھ نبھائے گی۔ وقت بدلتا ہے اور جب وقت بدلتا ہے تو ظلم کا حساب اسی دنیا میں چکانا پڑتا ہے۔
https://urdu.voiceofsindh.live/justice-of-time/






