بلاگ پچھتاوے کے آنسو

غلام مصطفیٰ
پرانے شہر کے گنجان بازار میں ایک دکان تھی جس کے باہر بورڈ پر بڑے بڑے حروف میں لکھا تھا: "خالص اور اصل مال، معیاری اشیاء کا واحد مرکز۔” اس دکان کا مالک بشیر احمد تھا، جسے پورا بازار اور آس پاس کے محلے کے لوگ ایک کامیاب، خوشحال اور دین دار تاجر کے طور پر جانتے تھے، لیکن اس دکھاوے کے پیچھے ایک ایسا تاریک سچ چھپا تھا جس سے سوائے بشیر کے کوئی واقف نہیں تھا۔ بشیر کی کامیابی کا راز صداقت یا محنت میں نہیں، بلکہ جھوٹ، فریب اور قسمیں کھا کر مال بیچنے میں پوشیدہ تھا۔
بشیر کا اصول بڑا سستا اور مجرمانہ حد تک سادہ تھا۔ جب بھی کوئی گاہک اس کی دکان پر آتا اور کسی چیز کے معیار کے بارے میں پوچھتا، تو بشیر فوراً ماتھے پر شکن ڈال کر اور آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر کہتا: "بھائی صاحب! جھوٹ بول کر دو پیسے کمانے سے بہتر ہے بندہ مرجائے۔ یہ مال باہر سے منگوایا ہے، بالکل خالص ہے۔ اللہ کی قسم، اس میں ذرا بھی ملاوٹ نہیں ہے، ورنہ میرا کاروبار تباہ ہو جائے گا۔” گاہک اس کی داڑھی، لباس اور پکی قسموں پر اندھا اعتماد کر لیتا تھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ وہ دکان کا گھٹیا اور پرانا سامان، جس پر کیڑے لگے ہوتے تھے یا جو ایکسپائر ہوچکا ہوتا تھا، اصل داموں سے بھی مہنگے داموں خرید رہا ہے۔
بشیر اپنے اس ہنر پر بہت اتراتا تھا۔ وہ گودام میں جاکر سستا اور خراب مال کم داموں خریدتا، اس کی پیکنگ بدلتا اور دکان پر سجاکر جھوٹی قسموں کے ساتھ بیچ دیتا۔ اگر کوئی کہتا کہ چینی میں ریت ملی ہے، تو وہ فوری قسم کھا بیٹھتا کہ "مجھ پر خدا کا قہر نازل ہو اگر اس میں ایک ذرہ بھی کھوٹ ہو۔” لوگ اس کی دکان پر آنا اپنی خوش قسمتی سمجھتے تھے۔ وقت گزرتا گیا اور بشیر کی تجوریاں بھرتی چلی گئیں۔ اس نے شہر کے پوش علاقے میں ایک شان دار کوٹھی بنا لی، بینک اکاؤنٹس میں لاکھوں روپے جمع ہوگئے اور اولاد کو اعلیٰ اداروں میں پڑھانے کے لیے بھیج دیا۔
جب بھی کوئی معزز بزرگ یا کوئی نیک دل انسان اسے سمجھاتا کہ "بشیر! یہ مالِ حرام ہے، اس کی کمائی بددعاؤں سے جڑی ہے، اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہوتی ہے،” تو بشیر منہ بنا کر ہنس دیتا اور کہتا: "مولوی صاحب! آج کے زمانے میں سچ بولنے والے بھوکے مرتے ہیں۔ یہ دنیا چالاکوں کی ہے، جو جتنی جھوٹی قسمیں کھائے گا، اتنا ہی آگے بڑھے گا۔” اسے اپنے عروج پر اتنا گھمنڈ تھا کہ اسے غریبوں کی آہ اور مظلوموں کے آنسو نظر ہی نہیں آتے تھے۔
لیکن قدرت کا قانون اٹل ہے۔ مکافاتِ عمل کا پہیہ جب گھومتا ہے تو بڑے سے بڑے شہنشاہ کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ بشیر کے زوال کا آغاز اس وقت ہوا جب اس کا بڑا بیٹا حماد، جو باہر کے ملک سے پڑھ کر آیا تھا، کاروبار میں شریک ہوا۔ حماد اپنے باپ سے بھی دو ہاتھ آگے نکلا۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ بڑے پیمانے پر ملاوٹ کی جائے اور میڈیسن اور بچوں کے دودھ میں بھی جعل سازی کی جائے۔ بشیر نے ایک دو بار منع کیا، لیکن اب لالچ کا سمندر دونوں باپ بیٹوں کے سروں سے گزر چکا تھا۔ انہوں نے بازار میں ایک ایسی بڑی کھیپ اتاری جس میں ممنوعہ اور زہریلے کیمیکل ملے ہوئے تھے اور بشیر نے حسبِ معمول قسمیں کھائی کہ یہ بچوں کے لیے بالکل محفوظ اور خالص ہے۔
کچھ ہی دنوں بعد وہ زہریلا سامان پورے شہر میں بک گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ درجنوں معصوم بچے اور بوڑھے ہسپتال پہنچ گئے۔ کئی گھروں کے چراغ بجھ گئے۔ ان میں سے ایک بچہ ایک غریب بیوہ کا اکلوتا بیٹا بھی تھا، جو اس جعلی خوراک کو کھانے کے بعد موت کے منہ میں چلا گیا۔ جب اس ہلاکت اور فریب کا پردہ چاک ہوا، تو حکومت اور انتظامیہ نے دکان پر چھاپہ مار دیا۔ تمام ملاوٹ شدہ سامان ضبط کرلیا گیا اور باپ بیٹا دونوں کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج ہو گئے۔
قانون کی گرفت اتنی سخت تھی کہ بشیر کی ساری دولت و ثروت وکیلوں کی فیس اور ضمانتوں میں پانی کی طرح بہہ گئی۔ جو لوگ کل تک بشیر کو سلام کرنے کے لیے قطار میں کھڑے ہوتے تھے، آج وہ اس کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ دکان ہمیشہ کے لیے سیل ہوچکی تھی۔ اور تو اور، جس بیٹے کے لیے اس نے دن رات حرام کمایا تھا، اسی حماد نے ایک دن عدالت کے باہر غصے میں آ کر باپ پر ہاتھ اٹھا دیا اور کہا: "یہ سب آپ کی سکھائی ہوئی مکاری کا نتیجہ ہے، آج آپ کی وجہ سے میری زندگی بھی برباد ہوگئی!”
اس ایک جملے نے بوڑھے بشیر کے دل کو چیر کر رکھ دیا۔ وہ عدالت کے باہر زمین پر بیٹھ گیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اسے وہ تمام دن یاد آگئے جب وہ جھوٹی قسمیں کھا کر غریبوں کی جمع پੂੰجی لوٹا کرتا تھا۔ اسے احساس ہوا کہ اس نے جو دولت حرام طریقے سے جمع کی تھی، وہ اس کے لیے رحمت نہیں بلکہ اللہ کا عذاب بن کر نازل ہوئی تھی۔ اس کا ضمیر جاگ اٹھا اور اس کے اندر کا انسان توبہ کے لیے تڑپ اٹھا۔
کچھ مہینے جیل کی کٹھن سلاخوں کے پیچھے اور مقدمات کی ذلت میں گزرے۔ جب بشیر کی ضمانت ہوئی اور وہ باہر آیا، تو وہ اب وہ پہلا والا "متکبر اور جھوٹا تاجر” نہیں رہا تھا۔ اس کے بال سفید ہو چکے تھے، کمر جھک چکی تھی اور آنکھوں میں پچھتاوے کے سمندر تھے۔ اس نے اپنی بڑی کوٹھی اور تمام بچی کھچی جائیداد بیچ کر ان تمام لوگوں کے نام رقم پہنچائی جنہیں اس نے فریب سے لوٹا تھا یا جن کے بچوں کا نقصان ہوا تھا۔
آج بشیر نے شہر کے ایک کونے میں ایک چھوٹی سی ریڑھی لگائی ہے جہاں وہ خالص فروٹ یا سبزی بیچتا ہے۔ اب نہ تو وہ کبھی جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی کوئی جھوٹی قسم کھاتا ہے۔ اگرچہ اس کے پاس اب وہ محلات اور کروڑوں روپے نہیں ہیں، لیکن اس کے چہرے پر ایک عجیب سا اطمینان اور سکون ہے۔ وہ جان گیا ہے کہ جھوٹ سے حاصل کی گئی دنیاوی دولت انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے اور اصل دولت سکونِ قلب اور حلال کی روٹی میں ہی پوشیدہ ہے۔
https://urdu.voiceofsindh.live/tears-of-regret/






