بلاگ سندھ میں بدترین آبی بحران

اسد احمد
پانی محض ایک مادی ضرورت نہیں، بلکہ انسانی زندگی کا بنیادی استعارۃً و لازمی جزو ہے۔ لیکن آج سندھ کے ہر دوسرے نلکے سے ٹپکتی خالی ہوا اور سوکھی زمین اس تلخ حقیقت کا ماتم کررہی ہے کہ یہاں پانی کا بحران موسمی خرابی سے کہیں زیادہ نااہلی کا شاخسانہ بن چکا ہے۔ کراچی کے گنجان آباد کوچوں سے لے کر کشمور کے آخری دیہات اور تھر کے پیاسے صحراؤں تک، سندھ کا ایک بڑا طبقہ آج پانی کی بوند بوند کو ترستا دکھائی دیتا ہے۔
کراچی کی صورت حال اس مجموعی تباہی کا سب سے نمایاں چہرہ ہے۔ سندھ اسمبلی کی حالیہ دستاویزات اور بلدیاتی رپورٹس کے مطابق، کراچی کی روزمرہ کی گھریلو اور صنعتی ضرورت قریباً 1200 ملین گیلن یومیہ (MGD) سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ اسے فراہم کیا جانے والا پانی بمشکل 630 ملین گیلن یومیہ کے قریب ہے۔ یوں روزانہ 570 ملین گیلن سے زائد کا ہولناک خسارہ شہریوں کا مقدر بن چکا ہے۔ لیکن المیہ صرف مقدار کی کمی کا نہیں، منصفانہ تقسیم کی عدم موجودگی کا بھی ہے۔ شہر کے جن انڈر گراؤنڈ واٹر سپلائی پوائنٹس اور ترسیلی نظام پر عوامی حق تھا، ان میں سے 40 فیصد سے زائد حصے پر غیر قانونی ہائیڈرنٹس اور ٹینکر مافیا کا غاصبانہ قبضہ قائم ہے۔ جس کے نتیجے میں شہری اپنی ہی خون پسینے کی کمائی کا ایک بڑا حصہ ٹینکرز سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
اس پیاسے شہر کے لیے کے-فور (K-IV) منصوبہ ایک خوابِ پریشاں بن چکا ہے۔ سال 2007 میں 260 ملین گیلن پانی کینجھر جھیل سے لانے کا جو عزم ظاہر کیا گیا تھا، وہ 19 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود بیوروکریسی کی فائلوں اور سیاسی مفادات میں دھول پھانک رہا ہے۔ جس پروجیکٹ کی ابتدائی لاگت صرف 25 ارب روپے تخمینہ کی گئی تھی، وہ بلاجواز تاخیر، غلط ڈیزائننگ اور بدعنوانی کی بھینٹ چڑھ کر اب 225 ارب روپے سے بھی تجاوز کرچکی ہے۔ بلک سپلائی کا یہ التوا اور بوسیدہ پائپ لائنوں سے پانی کا 30 فیصد سے زائد ضیاع ثابت کرتا ہے کہ مسئلہ منصوبوں کی کمی کا نہیں، نیت کا ہے۔
دیہی سندھ کی داستان تو اس سے بھی زیادہ دلدوز ہے۔ کینالز اور نہری نظام میں بااثر وڈیروں اور جاگیرداروں کی جانب سے کی جانے والی 45 فیصد سے زائد آبی چوری نے ٹیل (Tail) کے اضلاع جیسے کہ بدین، ٹھٹھہ اور سجاول کے کسانوں کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ جہاں زرخیز زمینیں بنجر ہورہی ہیں اور زراعت کو سالانہ 85 ارب روپے سے زائد کا شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ عالمی بینک اور یونیسیف کے حالیہ حقائق بتاتے ہیں کہ دیہی سندھ کے 90 فیصد سے زائد گھرانے پینے کے محفوظ پانی سے محروم ہیں اور 85 فیصد واٹر فلٹریشن اسکیمیں عدم توجہی کے باعث ناکارہ پڑی ہیں۔ نتیجہ یہ کہ 70 فیصد سے زائد آبادی بیکٹیریا اور سنکھیا سے آلودہ زہریلا پانی پینے پر مجبور ہے، جس سے بچوں میں غذائی قلت اور مہلک بیماریاں عام ہو رہی ہیں۔
یہ تمام اعداد و شمار محض تکنیکی رپورٹس کا حصہ نہیں، بلکہ اس ریاست کی اخلاقی ناکامی کا اشتہار ہیں۔ پانی کی فراہمی کسی حکومت کی خیرات نہیں، بلکہ شہری کا آئینی اور بنیادی حق ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ وقتی نعروں، ہنگامی ٹینکرز اور محض کاغذی منصوبوں کے بجائے ایک شفاف، قابلِ عمل اور جدید واٹر پالیسی مرتب کی جائے۔ کے-فور پروجیکٹ کی شفاف مکمل، لائنوں کے رساؤ کی فوری مرمت، واٹر فلٹریشن پلانٹس کی بحالی اور آبی چوری کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہی اس بحران کا واحد حل ہے۔ اگر اب بھی نہ جاگے، تو پانی کا یہ بحران صرف فصلوں اور انسانی صحت کو نہیں، بلکہ پورے معاشی و معاشرتی نظام کو بہا لے جائے گا۔
https://urdu.voiceofsindh.live/worst-water-crisis-in-sindh/






