Skip to content
ہفتہ, 7 نومبر 2026 ٹرینڈنگ کراچی کرکٹ صحت شوبز
بریکنگ
بلاگ

سمندر کی پُراَسرار گہرائی، جہاں ماؤنٹ ایورسٹ بھی ڈوب جائے

شیئر کریں
سمندر کی پُراَسرار گہرائی، جہاں ماؤنٹ ایورسٹ بھی ڈوب جائے

محمد راحیل وارثی

چیلنجر ڈیپ زمین کا سب سے گہرا معلوم سمندری مقام ہے، جہاں قدرت کے حیرت انگیز راز، شدید دباؤ اور زندگی کی غیر معمولی صلاحیتیں سائنس دانوں کے لیے آج بھی تحقیق کا موضوع ہیں۔ زمین کو عموماً پہاڑوں، میدانوں، دریاؤں، صحراؤں اور سمندروں کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے، لیکن اس سیارے کی ایک ایسی دنیا بھی موجود ہے جو ہماری نظروں سے اوجھل، روشنی سے محروم اور انسانی رسائی کے لیے انتہائی دشوار ہے۔ یہ دنیا سمندر کی تہہ میں پھیلی ہوئی ہے، جہاں پانی کی گہرائی ہزاروں میٹر سے تجاوز کرجاتی ہے اور زمین کی سطح پر موجود انسانی تصور بھی اپنی حدود کھونے لگتا ہے۔ بحرالکاہل میں واقع ماریانا ٹرینچ اسی زیرِ آب دنیا کا ایک حیرت انگیز قدرتی شاہکار ہے، جس کا سب سے گہرا معلوم مقام چیلنجر ڈیپ کہلاتا ہے۔

امریکی ادارے نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) کے مطابق چیلنجر ڈیپ کی گہرائی قریباً 10 ہزار 935 میٹر ہے، یعنی لگ بھگ 11 کلومیٹر۔ یہ پیمائش 2021 میں شائع ہونے والی ایک سائنسی تحقیق میں پیش کی گئی، جس کے مطابق گہرائی کا تخمینہ 6 میٹر کی ممکنہ کمی بیشی کے ساتھ لگایا گیا۔ اس مقام کی اہمیت صرف اس کی غیر معمولی گہرائی نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ یہاں پہنچنا، تحقیق کرنا اور حاصل ہونے والی معلومات کو محفوظ انداز میں سطحِ سمندر تک منتقل کرنا جدید سائنس اور انجینئرنگ کے بڑے چیلنجز میں شمار ہوتا ہے۔

چیلنجر ڈیپ کی گہرائی کا اندازہ لگانے کے لیے دنیا کے بلند ترین پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ کی مثال کافی ہے۔ ماؤنٹ ایورسٹ کی بلندی سطحِ سمندر سے قریباً 8 ہزار 849 میٹر ہے۔ اگر اسے فرضی طور پر چیلنجر ڈیپ میں رکھ دیا جائے تو اس کی چوٹی بھی پانی کی سطح تک نہیں پہنچے گی، بلکہ قریباً دو ہزار میٹر سے زیادہ پانی اس کے اوپر موجود ہوگا۔ یہ تقابل اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ زمین کی سطح پر بلندی کا سب سے بڑا قدرتی نشان بھی سمندر کی گہرائی کے سامنے کم پڑ جاتا ہے۔ یہ محض دلچسپ معلومات نہیں بلکہ ہمارے سیارے کی جغرافیائی ساخت کی وسعت کا ایک حیرت انگیز اظہار ہے۔

ماریانا ٹرینچ مغربی بحرالکاہل میں ماریانا جزائر کے قریب واقع ایک طویل اور گہری سمندری کھائی ہے۔ اس کی تشکیل زمین کی ارضیاتی پلیٹوں کی حرکت سے ہوئی۔ سائنسی اصطلاح میں اس عمل کو سبڈکشن کہا جاتا ہے، جس میں ایک سمندری پلیٹ دوسری پلیٹ کے نیچے دھنسنے لگتی ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں سمندر کی تہہ میں گہری کھائیاں بنتی ہیں جب کہ بعض علاقوں میں زلزلوں اور آتش فشانی سرگرمیوں کے امکانات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اس طرح ماریانا ٹرینچ محض پانی میں موجود ایک گڑھا نہیں، بلکہ زمین کے اندر جاری ارضیاتی عمل کا ایک نمایاں ثبوت ہے۔

چیلنجر ڈیپ کا ماحول انسانی زندگی کے لیے انتہائی ناموافق ہے۔ سمندر کی سطح پر موجود فضائی دباؤ کے مقابلے میں وہاں پانی کا دباؤ ایک ہزار گنا سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اتنی گہرائی میں کسی عام آبدوز یا معمول کے زیرِ آب آلات کا پہنچنا ممکن نہیں، کیونکہ اس دباؤ کے باعث معمولی ساختی کمزوری بھی تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ اسی لیے وہاں تحقیق کے لیے خصوصی طور پر تیار کردہ آبدوزیں، مضبوط دھاتی خول، حساس آلات اور انتہائی محتاط انجینئرنگ درکار ہوتی ہے۔

اس گہرائی میں سورج کی روشنی نہیں پہنچتی، اس لیے وہاں دن اور رات کا معمول کا تصور بھی نہیں ہوتا۔ درجہ حرارت نقطۂ انجماد کے قریب رہتا ہے جب کہ پانی کا شدید دباؤ ہر جاندار اور تحقیقی آلے کے لیے ایک مستقل آزمائش ہوتا ہے۔ تاہم یہ سمجھنا درست نہیں کہ جہاں روشنی نہیں وہاں زندگی بھی نہیں ہوسکتی۔ سمندر کی انتہائی گہری تہوں میں ایسے جاندار پائے گئے ہیں جنہوں نے اس غیر معمولی ماحول میں زندہ رہنے کے لیے مخصوص حیاتیاتی خصوصیات پیدا کرلی ہیں۔ چیلنجر ڈیپ اور سمندر کی دیگر انتہائی گہری کھائیوں میں تحقیق نے اس تصور کو تبدیل کیا ہے کہ زندگی کے لیے لازماً سورج کی روشنی اور سطحِ سمندر جیسا ماحول ضروری ہے۔ یہاں مخصوص اقسام کے خردنامیے اور دیگر جاندار پائے گئے ہیں جو شدید دباؤ، کم درجہ حرارت اور تاریکی کے باوجود زندہ رہ سکتے ہیں۔ بعض جاندار سمندر کی بالائی تہوں سے نیچے پہنچنے والے نامیاتی مادے کو خوراک بناتے ہیں جب کہ کچھ ایسے علاقوں میں موجود کیمیائی مادوں سے توانائی حاصل کرنے کے نظام سے وابستہ ہیں جہاں زمین کے اندرونی حصوں سے مختلف مرکبات خارج ہوتے ہیں۔

یہ دریافتیں محض سمندری حیات کے مطالعے تک محدود نہیں۔ سائنس دان ان جانداروں کی حیاتیاتی ساخت اور ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیتوں کا مطالعہ کرکے یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ زندگی انتہائی ناموافق حالات میں کس طرح برقرار رہ سکتی ہے۔ اس تحقیق سے حیاتیات، طب اور دیگر سائنسی شعبوں میں نئی معلومات حاصل ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ چیلنجر ڈیپ تک انسانی رسائی کی تاریخ بھی غیرمعمولی سائنسی جدوجہد کی داستان ہے۔ 1875 میں برطانوی تحقیقی جہاز ایچ ایم ایس چیلنجر نے اس علاقے میں سمندر کی گہرائی ناپنے کی ابتدائی کوشش کی۔ اسی جہاز کے نام پر اس گہرے مقام کو چیلنجر ڈیپ کہا گیا۔ اس زمانے میں جدید سونار اور ڈیجیٹل آلات دستیاب نہیں تھے، اس لیے وزن کے ساتھ رسی سمندر میں اتار کر گہرائی کا اندازہ لگایا جاتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ پیمائش کے طریقے بہتر ہوئے اور سمندر کی تہہ کے بارے میں زیادہ درست معلومات سامنے آنے لگیں۔

23 جنوری 1960 کو سوئس ماہرِ سمندر جیک پیکارڈ اور امریکی بحریہ کے افسر ڈان والش نے آبدوز نما تحقیقی جہاز ٹریسٹی کے ذریعے چیلنجر ڈیپ کی تہہ تک پہنچنے کا تاریخی کارنامہ انجام دیا۔ یہ انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ تھا کہ انسان اس مقام کی تہہ تک پہنچا۔ بعدازاں 2012 میں فلم ساز اور زیرِ آب تحقیق کے شوقین جیمز کیمرون نے تنہا ایک خصوصی آبدوز کے ذریعے وہاں کا سفر کیا۔ 2019 میں امریکی ایکسپلورر وکٹر ویسکووو نے بھی جدید آبدوز کے ذریعے اس گہرائی میں غوطہ لگایا۔ ان مہمات نے اس مقام کے بارے میں معلومات میں اضافہ کیا اور یہ ثابت کیا کہ مناسب ٹیکنالوجی اور تیاری کے ذریعے انسان زمین کے انتہائی دشوار گزار مقامات تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔

یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ جدید سائنسی ترقی کے باوجود انسان سمندر کی تہہ کو مکمل طور پر نہیں جان سکا۔ NOAA کی اگست 2024 میں تازہ کردہ معلومات کے مطابق دنیا کے سمندری فرش کے صرف قریباً 26 فیصد حصے کی ہائی ریزولوشن نقشہ سازی کی جا سکی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سمندر کی ایک بڑی دنیا اب بھی تفصیلی سائنسی نقشوں اور براہِ راست تحقیق کی منتظر ہے۔ سمندر کی تہہ کی نقشہ سازی صرف جغرافیائی معلومات حاصل کرنے کا عمل نہیں، بلکہ اس کے ذریعے زیرِ آب پہاڑوں، آتش فشانی ساختوں، گہری کھائیوں اور مختلف سمندری مسکنوں کا پتا چلتا ہے۔ یہ معلومات بحری جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت، قدرتی آفات کی تحقیق اور سمندری ماحول کے تحفظ کے لیے بھی اہم ہیں۔ ماضی میں نامعلوم زیرِ آب پہاڑوں سے بحری جہازوں کے ٹکرانے کے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سمندر کی تہہ کے درست نقشے بنانا محض سائنسی دلچسپی نہیں بلکہ عملی ضرورت بھی ہے۔

ماریانا ٹرینچ کی تحقیق ہمیں زمین کے قدرتی نظام کو بہتر انداز میں سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ یہاں کی ارضیاتی ساخت کے مطالعے سے پلیٹوں کی حرکت، زلزلوں اور سمندری کھائیوں کی تشکیل کے بارے میں معلومات ملتی ہیں۔ چونکہ دنیا کے کئی بڑے زلزلے پلیٹوں کے باہمی ٹکراؤ اور ایک پلیٹ کے دوسری کے نیچے دھنسنے کے عمل سے وابستہ ہیں، اس لیے ایسی جگہوں کی تحقیق قدرتی آفات کو سمجھنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ صرف چیلنجر ڈیپ کا مطالعہ زلزلوں کی درست پیش گوئی ممکن بنا دے گا، تاہم اس سے ان عوامل کو سمجھنے میں مدد ضرور ملتی ہے جو زمین کی اندرونی سرگرمیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ گہرے سمندر میں موجود جانداروں کی تحقیق حیاتیاتی سائنس کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ شدید دباؤ اور کم درجہ حرارت میں زندہ رہنے والے جانداروں کے خلیات، پروٹین اور دیگر حیاتیاتی نظام سائنس دانوں کو قدرت کی غیرمعمولی صلاحیتوں سے روشناس کراتے ہیں۔ مستقبل میں اس تحقیق سے طب، حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور ماحولیات کے شعبوں میں مفید معلومات سامنے آسکتی ہیں۔ تاہم ان امکانات کو ابھی تحقیق کے تناظر میں ہی دیکھنا چاہیے، کیونکہ ہر سائنسی دریافت کا عملی فائدہ سامنے آنے میں وقت لگتا ہے۔

ماریانا ٹرینچ اور چیلنجر ڈیپ دراصل انسان کے علم اور لاعلمی کے درمیان موجود فاصلے کی علامت ہیں۔ ایک طرف انسان نے خلا میں سیاروں اور دور دراز کہکشاؤں تک رسائی حاصل کی، دوسری جانب اسی زمین کے سمندروں کی گہرائی میں اب بھی ایسے مقامات موجود ہیں جن کے بارے میں ہماری معلومات محدود ہیں۔ یہ حقیقت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ترقی کا مطلب صرف نئی بلندیاں چھونا نہیں، بلکہ اپنے قدموں تلے موجود دنیا کے پوشیدہ رازوں کو سمجھنا بھی ہے۔ چیلنجر ڈیپ کی قریباً 11 کلومیٹر گہرائی، وہاں کا ناقابلِ تصور دباؤ، مکمل تاریکی اور زندگی کے حیران کن آثار ہمیں قدرت کی وسعت کا احساس دلاتے ہیں۔ یہ مقام محض دنیا کی سب سے گہری معلوم سمندری جگہ نہیں، بلکہ تحقیق، جستجو اور انسانی عزم کا ایک ایسا میدان ہے جہاں ہر نئی مہم علم کے ایک نئے دروازے کو کھول سکتی ہے۔ سمندر کی اس تاریک تہہ میں چھپے رازوں کی تلاش جاری ہے اور ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں یہاں سے حاصل ہونے والی کوئی دریافت ہماری زمین اور اس پر زندگی کے بارے میں موجود کئی تصورات کو مزید وسعت دے دے۔

شیئر کریں

https://urdu.voiceofsindh.live/the-mysterious-depths-of-the-ocean-where-even-mount-everest-would-be-submerged/

ویب ڈیسک
مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

74 خبریں