بلاگ دھوکے کا حاصل

عبدالعزیز بلوچ
شہر کے شور شرابے سے دُور، گلی نمبر چار کے ایک پرانے مکان کے روشن دان سے جب شام کی مدہم دھوپ اترتی، تو وہاں تنہائی کا ایک عجیب راج ہوتا۔ یہ مکان سحرش کا تھا، یا یوں کہیے کہ سحرش کی یادوں کا قبرستان۔ روشن دان کے نیچے لکڑی کی ایک چھوٹی سی میز رکھی تھی، جس پر گرد کی ایک موٹی تہہ جمی تھی اور اس پر ایک ٹوٹی ہوئی چوڑی کے ٹکڑے کے ساتھ وہ ڈائری رکھی تھی جس کے صفحات پر آنسوؤں کے نشان اب بھی تازہ محسوس ہوتے تھے۔
سحرش ایک ایسی لڑکی تھی، جس کے دل میں دنیا بھر کی معصومیت اور آنکھوں میں خوابوں کا سمندر بلا کرتا تھا۔ وہ یونیورسٹی کے ادبی حلقوں میں اپنی خاموش طبعی اور خوبصورت تحریروں کی وجہ سے جانی جاتی تھی۔ اس کی دنیا بہت چھوٹی تھی۔ کتابیں، ماں کی دعائیں اور اس کا مان، جو اس نے وقار پر رکھا تھا۔
وقار! اس نام میں ایک طلسم تھا، ایک فریب تھا۔ وقار شہر کے ایک بااثر اور مال دار گھرانے کا چشم و چراغ تھا۔ اس کی شخصیت میں ایک جادوئی کشش تھی اور بولنے کا انداز اتنا دل نشیں تھا کہ سامنے والا پہلی ہی ملاقات میں اس کا اسیر ہوجاتا۔ وقار کو لڑکیوں کے دلوں سے کھیلنا اور ان کی جذباتیت کو اپنے مکروہ مقاصد کے لیے استعمال کرنا بہت اچھے سے آتا تھا۔ یہ اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ محبت کا ڈھونگ رچانا، جھوٹے وعدے کرنا اور جب دل بھر جائے تو کسی پرانے کاغذ کی طرح زندگی سے نکال باہر کرنا۔
جب وقار کی نظر سحرش پر پڑی تو اس نے اسے اپنے لیے ایک آسان شکار سمجھا۔ اس نے روزانہ یونیورسٹی کے لان میں، لائبریری کی سیڑھیوں پر اور کافی شاپ کے کونے میں سحرش کے راستے میں پھول بچھانا شروع کردیے۔ جھوٹی قسمیں، جعلی آنسو اور دائمی ساتھ کے وہ تمام خوبصورت فریب جو ایک طاقتور دھوکے باز کے ترکش کے تیر ہوتے ہیں، وقار نے ایک ایک کرکے چلادیے۔
"سحرش! تم میری زندگی کی وہ روشنی ہو جس کے بغیر میں اندھیرے میں ہوں۔ میرے گھر والے نہیں مان رہے، لیکن میرا ایمان ہے کہ میرا مقدر صرف تم ہو،” وقار اکثر سحرش کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر بڑی بے باکی سے یہ ڈرامائی جملے کہتا تھا۔
اور سحرش؟ وہ تو محبت کی دیوانی تھی۔ اس نے وقار کے ہر جھوٹ کو سچ مان لیا۔ اس نے اپنی ماں کی نصیحتیں، اپنے روشن مستقبل کے خواب اور معاشرے کے طعنے، سب کچھ پسِ پشت ڈال کر اپنی روح تک وقار کے نام کردی۔ اس نے مان لیا کہ وقار کا عشق ہی اس کی کائنات ہے۔
پھر ایک دن، وہ زہر آلود شام آئی جس نے سحرش کی دنیا کو الٹ کر رکھ دیا۔ یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا میں، وقار اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا اور سحرش کے بارے میں ایسی شرم ناک باتیں کررہا تھا جو کسی پتھر کے دل کو بھی موم کردیں۔ وقار اپنے دوستوں کے سامنے فخر سے کہہ رہا تھا: "یارو! ایک اور شکار جال میں پھنس گیا ہے۔ تم لوگ بھی کمال کرتے ہو، ان جذباتی لڑکیوں کو دو میٹھے بول بولو اور یہ پیروں میں آجاتی ہیں۔ شادی؟ ہاہاہا! بھلا وقار کسی غریب اور سیدھی سادی لڑکی سے شادی کرے گا؟ میرا تو صرف ٹائم پاس کرنے کا ارادہ تھا!”
یہ الفاظ جب سحرش کے کانوں میں پڑے، جو اپنے محبوب کے لیے چائے کا تھرموس لے کر آرہی تھی، تو وقت جیسے رُک گیا۔ اس کے قدموں تلے سے زمین نکل گئی۔ اس کے ہاتھ سے تھرموس گر کر ٹوٹ گیا، گرم چائے زمین پر پھیل گئی، لیکن دل کی چائے تو اس سے کہیں زیادہ کھولتی ہوئی اس کے پورے وجود میں پھیل چکی تھی۔ وہ ایک لمحے کے لیے دانیال کو دیکھتی رہی، اس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے، صرف ایک ویرانی تھی، ایک ایسا سناٹا جو موت سے بھی زیادہ ہولناک تھا۔
سحرش نے کوئی شور نہیں مچایا، کوئی گالی نہیں دی، کوئی شکوہ نہیں کیا۔ وہ وہاں سے خاموشی سے پلٹ گئی۔ اس رات اس نے اپنے کمرے میں خود کو بند کرلیا۔ اس نے نہ کچھ کھایا، نہ کسی سے بات کی۔ جب صبح کا سورج طلوع ہوا، تو سحرش اس فانی دنیا کی تلخیوں سے ہمیشہ کے لیے نجات پاچکی تھی۔ اس کا کمزور دل اس شدید صدمے اور دھوکے کا بوجھ برداشت نہ کرسکا تھا۔ اس کی لاش بستر پر اس طرح پڑی تھی جیسے کوئی مسافر تھک ہار کر ہمیشہ کے لیے سو گیا ہو۔
سحرش کی موت کی خبر جب وقار تک پہنچی، تو اس نے ایک طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا: "اچھا ہوا، جان چھوٹی! ورنہ یہ لڑکی تو گلے کا ہار بن جاتی۔” وقار کی سنگ دلی اتنی بڑھ چکی تھی کہ اسے اس کی موت پر ذرہ برابر بھی ندامت یا افسوس نہیں ہوا۔ اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ اس پر جشن منایا اور اپنی زندگی میں آگے بڑھ گیا۔
سال گزرتے گئے۔ زندگی اپنے روایتی تال میل کے ساتھ چلتی رہی۔ وقار کی شادی اس کے خاندان کی مرضی کے مطابق ایک بڑی اور دولت مند گھرانے کی لڑکی نتاشا سے ہوگئی۔ نتاشا بظاہر بہت خوبصورت اور ماڈرن تھی، لیکن اس کے دل میں نہ خلوص تھا اور نہ ہی کوئی جذبہ۔ وہ شادی صرف نام کی ایک ڈیل تھی، جس میں دکھاوے کی چمک دمک تو تھی مگر سکون کا نام و نشان تک نہ تھا۔
وقت کا پہیہ گھوما۔ وقار جو اَب 45 سال کی عمر کو پہنچ چکا تھا، آہستہ آہستہ زندگی کی اصل حقیقتوں سے روشناس ہونے لگا۔ اس کے کاروبار میں زوال آنا شروع ہوگیا۔ جن دوستوں کے ساتھ مل کر وہ لوگوں کو دھوکے دیتا تھا، انہی دوستوں نے ایک دن بہت بڑا فراڈ کرکے وقار کو سڑک پر لاکھڑا کیا۔ اس کا بینک بیلنس صفر ہوگیا، اس کا عالی شان بنگلہ بینک کی نذر ہوگیا اور اس کے اپنے کہلانے والے سارے رشتہ دار اور دوست ایک ایک کرکے منہ پھیر کر چل دیے۔
اور سب سے بڑا عذاب تو اس کا اپنا گھر تھا۔ نتاشا، جو صرف دولت کی پجاری تھی، وقار کے زوال کو دیکھتے ہی اسے چھوڑ کر اپنے والدین کے گھر چلی گئی اور طلاق کا نوٹس بھیج دیا۔ وقار اب اس اکیلے، کرائے کے تنگ و تاریک کمرے میں بیٹھا تھا جہاں چاروں طرف اندھیرا اور خاموشی کا پہرا تھا۔
یہی وہ موڑ تھا جہاں سے وقار کی اصل بربادی اور عبرت ناک کہانی کا آغاز ہوا۔ اب ہر رات جب وہ بستر پر لیٹتا، تو اندھیرے میں اسے سحرش کا وہ معصوم چہرہ دکھائی دیتا جو یونیورسٹی کے دنوں میں اس کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھتا تھا۔ وہ آوازیں جو وقار نے ہنسی اُڑانے کے لیے استعمال کی تھیں، اب رات کے سناٹے میں بھوت بن کر اس کے دماغ میں گونجنے لگتی تھیں۔
"وقار! تم نے میرے دل سے کھیلا ہے… تم نے میرے بھروسے کا خون کیا ہے…”
یہ جملے اس کے ضمیر پر ہتھوڑے کی طرح برسنے لگے۔ پچھتاوا اب ایک ناسور بن چکا تھا جو اس کے اندر ہی اندر اسے کھارہا تھا۔ اسے اب سمجھ آرہی تھی کہ جب انسان کسی بے گناہ کی روح کو مجروح کرتا ہے، تو کائنات کا نظام کس طرح اس کا حساب چکاتا ہے۔ وقار کو اب پتا چلا کہ بھوک کیا ہوتی ہے، بے بسی کیا ہوتی ہے اور کسی کو دھوکا دے کر خود دھوکے کی چکی میں پسنا کیا کہلاتا ہے۔
وہ اپنے بال نوچتا، دیواروں سے سر ٹکراتا اور زور زور سے چیخ کر معافی مانگتا، مگر وہاں کوئی نہیں ہوتا تھا۔ اس کا جسم اب بیماریوں کا گڑھ بن چکا تھا۔ بلڈپریشر، شوگر اور شدید ڈپریشن نے اسے آدھا پاگل کردیا تھا۔ اس کے پاس دوا خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے اور نہ ہی اس کے پاس کوئی ایسا اپنا تھا جو اس کے سر پر ایک بار محبت کا ہاتھ پھیر سکتا۔
ایک سرد رات، جب بارش پوری شدت کے ساتھ اس کرائے کے کمرے کی کھڑکیوں کو پیٹ رہی تھی، وقار بستر پر نیم بے ہوشی کی حالت میں پڑا تھا۔ اس کی سانسیں اُکھڑ رہی تھیں۔ اس کی ہچکی بندھی ہوئی تھی اور آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب رواں تھا۔ وہ بار بار بڑبڑا رہا تھا: "مجھے معاف کردو سحرش… مجھے معاف کردو! میں نے تمہاری معصومیت کا قتل کیا تھا… آج میں خود ایک لاش بن چکا ہوں… کوئی تو میری مدد کرو!”
مگر اس کی پکار سننے والا کوئی نہ تھا۔ اندھیرا اور گہرا ہوتا گیا اور سردی اس کے جسم میں اترتی گئی۔ جب صبح کا سورج نکلا، تو اس کرائے کے کمرے سے بھی ایک جنازہ اٹھا، لیکن فرق یہ تھا کہ سحرش کی موت ایک مظلوم کی موت تھی جس کے بعد اس کا نام امر ہوگیا جب کہ وقار کی موت ایک ایسے دھوکا باز کی موت تھی، جس کی لاش کو اٹھانے والا بھی کوئی محلے دار ہی آگے آیا تھا۔
دھوکے کی اس عبرت ناک کہانی نے ثابت کردیا کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ضرور ہے، مگر جب پڑتی ہے تو ظالم کی دنیا اور آخرت دونوں کو راکھ کا ڈھیر بنادیتی ہے۔
https://urdu.voiceofsindh.live/the-outcome-of-deception/






