Skip to content
جمعہ, 6 نومبر 2026 ٹرینڈنگ کراچی کرکٹ صحت شوبز
بریکنگ
بلاگ

پیاسی سندھ دھرتی

شیئر کریں
پیاسی سندھ دھرتی

اجمل ہاشمی

پاکستان کے معاشی حب اور روشنیوں کے شہر کراچی سے لے کر سرزمینِ سندھ کے وسیع و عریض زرعی کھیتوں تک، آج ہر سو ایک ہی المیہ گونج رہا ہے اور وہ ہے پانی کی ہلاکت خیز قلت۔ سندھ، جسے تاریخ میں دریائے سندھ کی تہذیب کا گہوارہ کہا جاتا ہے، آج اپنی ہی دھرتی پر بوند بوند کو ترستا ہے۔ یہ محض ایک قدرتی قحط یا موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ طاقتور بااثر افراد، وڈیروں اور جاگیرداروں کی مبینہ کرپشن، آبی چوری اور انتظامی نااہلی کا وہ بھیانک شاخسانہ ہے جس نے لاکھوں انسانوں، بے زبان جانوروں اور ہری بھری زمینوں کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔

اگر ہم کراچی کے دیرینہ منصوبے کے فور (K-4) کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ حکمرانی کے کھوکھلے پن اور بدترین بدعنوانی کی ایک ایسی داستانِ الم بن چکا، جس کی مثال نہیں ملتی۔ کروڑوں نفوس پر مشتمل اس میٹروپولیٹن شہر کو روزانہ کی بنیاد پر کم از کم 1200 ملین گیلن پانی (MGD) کی شدید ضرورت ہے، جب کہ حقیقت میں اس وقت مختلف ذرائع سے بمشکل 500 سے 550 ایم جی ڈی پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ اس نصف سے بھی کم فراہمی نے شہرِ قائد کے باسیوں کا جینا محال کر رکھا ہے۔

کے فور پروجیکٹ، جو اصل میں 2000 کی دہائی کے اواخر اور 2011 کے دوران چند ارب روپے کی ابتدائی لاگت سے مکمل ہونا تھا، وقت گزرنے کے ساتھ کرپشن اور کمیشن خوری کی بھٹی میں ایسا جھونکا گیا کہ اس کی تخمینہ لاگت بڑھتے بڑھتے 225 ارب روپے تک جاپہنچی۔ 19 طویل برسوں سے یہ کھنڈر نما اور نام نہاد ترقیاتی منصوبہ صرف سرکاری فائلوں کے پیادوں کی طرح ادھر سے اُدھر گھمایا جارہا ہے۔ نسلیں بدل گئیں، دنیا چاند اور مریخ پر بستیاں بسانے کے نئے خواب دیکھ رہی ہے مگر سندھ کے ان لُٹیروں اور مافیاز کی ہوس ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ شہر کی پائپ لائنیں خشک سسکیاں لے رہی ہیں اور دوسری طرف اس خشک سالی کے سائے میں ایک طاقتور ٹینکر مافیا پروان چڑھ چکا ہے جو غریب عوام کا خون نچوڑ کر اربوں روپے کی ناجائز دولت سمیٹ رہا ہے۔ عام انسان بنیادی حقوق سے محروم ہے جبکہ ٹینکر مافیا کے کارندے حکمران طبقے کی سرپرستی میں دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہے ہیں۔

کراچی کے شہری علاقوں سے نکل کر ذرا سندھ کے دیہی پس منظر اور زرعیٹی معیشت کا رخ کریں تو صورتحال مزید دل دہلا دینے والی نظر آتی ہے۔ سندھ کو زرخیز بنانے والی نہروں اور شاخوں کے کناروں پر آباد کسانوں اور ہاریوں کے مقدر میں رونا اور سسکنا لکھ دیا گیا ہے۔ نہری نظام کے بالائی حصوں پر قابض بااثر جاگیرداروں اور وڈیروں نے کُھلے عام پانی کی چوری کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ وہ اپنی ذاتی زمینوں، فارم ہاؤسز اور شاہانہ باغات کو سیراب کرنے کے لیے نہروں کا تمام پانی غیر قانونی طور پر موڑ لیتے ہیں جب کہ غریب اور نچلے درجے کے کسانوں کی سیکڑوں ایکڑ پر پھیلی ہوئی فصلیں پانی نہ ملنے کی وجہ سے وقت سے پہلے ہی جُھلس کر خاک ہوجاتی ہیں۔

یہ بااثر لوگ قانون کی گرفت سے مکمل طور پر بالاتر ہیں۔ کوئی بھی عام شہری یا چھوٹا کسان ان کے خلاف آواز اٹھانے کی جرأت نہیں کرسکتا، کیونکہ یہاں ریاست کے اندر ایک متوازی ریاست قائم ہے جہاں طاقتور کی لاٹھی کو ہی قانون کا درجہ حاصل ہے۔ گندم، کپاس اور چاول کی وہ فصلیں جو کبھی سندھ کی خوش حالی کی ضمانت ہوا کرتی تھیں، آج پانی کی بوند کو ترس کر بنجر مٹی کا ڈھیر بن گئی ہیں۔ کسان بینکوں کے قرضوں کے بوجھ تلے دب کر خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں مگر ان ظالموں کے ٹھاٹ باٹ اور محلات کی رونقوں میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں آتا۔ ان کی عیاشیوں کی داستانیں عام ہیں، جن کے پالتو جانوروں اور کتوں تک کو منرل واٹر مہیا کیا جاتا ہے جب کہ دھرتی کا اصل وارث کسان اور مزدور گٹر کا غلاظت آلود پانی پینے پر مجبور ہے۔ تھر کے ریگستان میں ہر سال بھوک، پیاس اور زہریلا پانی پینے سے سیکڑوں معصوم بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، لیکن حکمران اس کا سدباب کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔

اس تمام تر الم ناک صورت حال کا سب سے تاریک پہلو یہ ہے کہ جب بھی سندھ کے طول و عرض سے مظلوم عوام، دانشور یا دردمند طبقے کی طرف سے انتظامی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے اور شفافیت لانے کے لیے "نئے انتظامی یونٹس” یا نئے اضلاع کے قیام کا مطالبہ سامنے آتا ہے، تو ان کرپٹ وڈیروں اور جاگیرداروں کے پیٹ میں ایسا شدید مروڑ اٹھتا ہے جیسے ان کے اقتدار کی بنیادوں پر کوئی کاری ضرب لگ گئی ہو۔ انہیں خوف اس بات کا نہیں کہ صوبہ کمزور ہوجائے گا، بلکہ اصل تکلیف یہ ہے کہ اگر اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہوگئے، انتظامی یونٹس تقسیم ہوگئے، تو ان کی صدیوں پرانی بادشاہت، بدمعاشی اور وسائل کی لوٹ مار کا وہ سیاہ سلسلہ ہمیشہ کے لیے دفن ہوجائے گا جو انہوں نے عوام کی گردنوں پر مسلط کر رکھا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھ جائے اور حکمران اپنی ڈھٹائی کی تمام حدیں عبور کر لیں، تو عوام کا صبر بھی جواب دے جاتا ہے۔ سندھ کے غریب اور باشعور عوام اب مزید اس غلامی، پیاس اور استحصال کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کے فور پروجیکٹ کی مجرمانہ تاخیر، اربوں روپے کی لوٹ مار، نہروں کے پانی کی منظم چوری اور معصوم کسانوں کی بربادی اب مزید پردے کے پیچھے نہیں چھپ سکتی۔

وقت آگیا ہے کہ سندھ کے حکمران غفلت سے باہر نکلیں، پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں اور کے فور جیسے اہم ترین منصوبوں کو فوری طور پر پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔ اگر عوام کے بنیادی مطالعے اور حقوق کو یوں ہی پاؤں تلے روندا جاتا رہا، تو یہ پیاسا طوفان اقتدار کے ان تمام محلات اور فرسودہ جاگیردارانہ نظام کو بہا لے جائے گا۔ ظلم کی یہ کالی رات اب ڈھلنے کو ہے اور وہ دن دور نہیں جب ہر شہری کو اس کا حق ملے گا اور سندھ کی دھرتی ایک بار پھر اپنے اصل حُسن، ہریالی اور خوش حالی کے ساتھ ابھر کر سامنے آئے گی۔

شیئر کریں

https://urdu.voiceofsindh.live/thirsty-land-of-sindh/

ویب ڈیسک
مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

65 خبریں