Skip to content
جمعرات, 5 نومبر 2026 ٹرینڈنگ کراچی کرکٹ صحت شوبز
بریکنگ
بلاگ

سندھ میں آبی قلت، بقا کا بدترین چیلنج

شیئر کریں
سندھ میں آبی قلت، بقا کا بدترین چیلنج

رفیع امجد

سندھ کا پانی کا بحران اب صرف ایک موسمی یا زراعت کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ انسانی بقا کا بدترین چیلنج بن چکا ہے۔ ایک طرف کراچی کی اراضی پر بسنے والے کروڑوں انسان بوند بوند کو ترستے ہیں اور دوسری طرف سندھ کا غریب کاشت کار اور ٹیل کا آبادگار اپنی بنجر ہوتی زمینوں کو دیکھ کر خون کے آنسو روتا ہے۔ سرکاری بے حسی، اربوں روپے کے منصوبوں کی نااہلی اور بااثر سیاسی شخصیات کی سرپرستی میں جاری پانی چوری نے صوبے کو معاشی اور معاشرتی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔


ارسا (IRSA) کے اعداد و شمار اور ارسا ایکارڈ 1991 کی خلاف ورزیوں پر سندھ کے آبادگار بورڈ کے شدید تحفظات سامنے آتے رہے ہیں۔ سندھ کو ربیع اور خریف کے سیزنز کے دوران اکثر 25 فیصد سے 45 فیصد تک شدید پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن المیہ صرف پانی کی کم یابی کا نہیں، بلکہ اس کی غیر منصفانہ تقسیم کا بھی ہے۔ سندھ کے کینالز اور واٹر کورسز پر بااثر سیاسی شخصیات اور مقامی وڈیروں نے اپنے غیر قانونی ڈائریکٹ آؤٹ لیٹس (Outlets) اور لفٹ پمپس لگا رکھے ہیں۔ کینال کا بالائی حصہ (Head Areas) بااثر زمینداری عیاشیوں میں بہادیا جاتا ہے جب کہ بدین، ٹھٹھہ، سجاول اور جامشورو جیسے ٹیل اینڈ کے غریب کاشت کار خشک نہروں کو تکتے رہ جاتے ہیں۔ زرعی ماہرین اور ایسوسی ایشنز کے مطابق پانی کی اس دیدہ دلیرانہ چوری سے ہر سال سندھ کی معیشت اور چاول و کپاس کی فصلوں کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ غریب ہاری قرضوں تلے دب کر نقل مکانی پر مجبور ہے جب کہ بااثر وڈیرے مفت کے پانی سے اپنے فارم ہاؤسز کو سیراب کررہے ہیں۔

پاکستان کا سب سے بڑا معاشی مرکز اور گنجان ترین شہر کراچی، جہاں کی روزانہ کی واٹر ڈیمانڈ 1,200 ملین گیلن سے تجاوز کرچکی ہے، اسے آدھے سے بھی کم یعنی بمشکل 500 سے 550 ایم جی ڈی پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ اس بھیانک قلت کا واحد امید بخش حل کے فور (K-4) گریٹر کراچی واٹر سپلائی پروجیکٹ سمجھا جاتا تھا، لیکن یہ منصوبی نااہلی اور بدانتظامی کی بدترین مثال بن چکا ہے۔ جب کے فور پروجیکٹ کا ابتدائی خاکہ منظور کیا گیا تھا تو اس کی لاگت صرف 25.5 ارب روپے تھی۔ طویل تاخیر، ڈیزائن میں غلطیوں اور سرخ فیتہ شاہی کی وجہ سے اس کی لاگت اب 225 ارب روپے سے تجاوز کرچکی ہے۔

منصوبے کی تکمیلی تاریخیں بار بار بدلی گئیں۔ واپڈا، ایف ڈبلیو او اور صوبائی محکموں کی بیٹھکوں اور تکنیکی اعتراضات کی وجہ سے کام سالہا سال رُکا رہا۔ اب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو دی جانے والی بریفنگ کے مطابق کے فور کی مکمل فعالی کے لیے ایک بار پھر نیا ہدف طے کیا گیا ہے اور اسے اپریل 2029 تک التوا میں ڈال دیا گیا ہے۔ جب سرکاری پائپ لائنز سوکھی پڑی ہوں اور کے فور جیسے منصوبے کاغذی فائلوں میں دبے رہیں، تو معاشی جنگ میں واٹر ٹینکر مافیا جنم لیتی ہے۔ کراچی میں لائن کا پانی چوری کرکے کھلے عام ٹینکرز کے ذریعے 10,000 سے 15,000 روپے فی ٹینکر غریب شہریوں کو بیچا جاتا ہے۔ جن علاقوں میں پانی پائپ کے ذریعے مفت ملنا چاہیے، وہاں کے محنت کش اپنی ماہانہ آمدن کا 20 سے 30 فیصد صرف پینے کے پانی کی خریداری پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔

سندھ کو اس تباہ کن بحران سے نکالنے کے لیے چند ہنگامی بنیادوں پر اقدامات ناگزیر ہیں۔ کینالز پر کارروائی کرکے نہروں اور واٹر کورسز پر بااثر شخصیات کی ڈائریکٹ چوری کے خلاف رینجرز اور پولیس کے ذریعے سخت آپریشن کیا جائے، تاکہ ٹیل کے کاشتکاروں کو ان کا حق ملے۔ کے فور منصوبے کو 2029 کے بجائے ہنگامی بنیادوں پر بجٹ فراہم کرکے اگلے ایک سے دو سال کے اندر مکمل کیا جائے۔ کراچی واٹر بورڈ کے نظام میں شفافیت لائی جائے اور غیر قانونی ہائیڈرنٹس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔

سندھ کے عوام پانی کی ایک ایک بوند کے لیے سڑکوں پر ہیں، چاہے وہ گلشن اقبال اور اورنگی ٹاؤن کے رہائشی ہوں یا بدین و لاڑکانہ کے ہاری۔ اب محض زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی اصلاحات اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے، ورنہ یہ واٹر کرائسز صوبے کی معاشی شریانوں کو مکمل طور پر نچوڑ دے گا۔

شیئر کریں

https://urdu.voiceofsindh.live/water-scarcity-in-sindh-the-worst-challenge-to-survival/

ویب ڈیسک
مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

56 خبریں