بلاگ نئے انتظامی یونٹس: ترقی و خوشحالی کے ضامن

ثمرین کنول
پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس اور صوبوں کی تشکیل کا موضوع اب محض ایک سیاسی بحث نہیں رہا، بلکہ یہ 25 کروڑ سے زائد عوام کی بقا، معاشی استحکام اور بنیادی سہولتیں کی منصفانہ فراہمی کا سب سے اہم ترین تقاضا بن چکا ہے۔ قیامِ پاکستان کے وقت ملک کی آبادی بمشکل تین تا چار کروڑ تھی، مگر آج آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے جب کہ بنیادی انتظامی ڈھانچہ وہی دہائیوں پرانا ہے۔ ملک کو صرف چار بڑے صوبوں کے ذریعے چلانا ایک ایسا انتظامی بوجھ ہے جس کے تلے عام شہری پس رہا ہے۔
پاکستان کے موجودہ چاروں صوبے آبادی اور رقبے کے لحاظ سے دنیا کے کئی ممالک سے بڑے ہیں۔ پنجاب کی مردم شماری 2023 کے مطابق آبادی قریباً 12 کروڑ 70 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ اتنی بڑی آبادی کا انتظام صرف ایک دارالحکومت (لاہور) سے چلانا عملی طور پر ناممکن ہے۔ سندھ کی آبادی 5 کروڑ 50 لاکھ سے زائد ہے اور اس کا بیشتر بجٹ اور انتظامی مرکزیت کراچی یا چند مخصوص شہروں تک محدود رہتا ہے۔ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان (کل رقبے کا قریباً 44 فیصد) ہے، لیکن وہاں کی آبادی دور دراز علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے، کوئٹہ کے مرکز سے پورے صوبے کا انتظام سنبھالنا ناممکن ہو چکا ہے۔ فاٹا (FATA) کے ضم ہونے کے بعد خیبر پختونخوا کی آبادی 4 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے اور اس کا رقبہ 1,01,741 مربع کلومیٹر ہو چکا ہے۔ چترال اور مالاکنڈ کے دُور دراز پہاڑی علاقوں سے لے کر جنوبی اضلاع (ڈی آئی خان، بنوں) تک کے عوام کے لیے پشاور جاکر اپنے سرکاری و قانونی کام کروانا ایک انتہائی دشوار گزار مرحلہ ہے۔
اس نام نہاد "مرکزیت” (Centralization) کا نتیجہ یہ ہے کہ جنوبی پنجاب، اندرونِ سندھ، بلوچستان کے دُور دراز اضلاع اور خیبر پختونخوا کے پس ماندہ علاقوں کے عوام پینے کے صاف پانی، معیاری علاج، تعلیم اور روزگار کی بنیادی سہولتوں سے مکمل محروم ہیں۔ عوام کو اپنے معمولی نوعیت کے مسائل حل کروانے یا عدالتوں سے انصاف حاصل کرنے کے لیے سیکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کرکے صوبائی دارالحکومتوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک نے آبادی کے تناسب سے اپنے انتظامی یونٹس کو تقسیم کر کے نہ صرف حکمرانی کو آسان بنایا بلکہ عوام کے معیارِ زندگی کو بھی بلند کیا۔ بین الاقوامی سطح پر اگر نظر ڈالی جائے تو دنیا کے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک نے اپنی آبادی کے تناسب سے انتظامی یونٹس تشکیل دیے ہیں۔ مثال کے طور پر، امریکا میں قریباً 33 سے 34 کروڑ کی آبادی کے لیے 50 ریاستیں (States) بنائی گئی ہیں، جہاں ہر ریاست کی اوسط آبادی قریباً 68 لاکھ بنتی ہے۔ ترکیہ نے اپنی 8.5 کروڑ آبادی کو 81 صوبوں میں تقسیم کر رکھا ہے جہاں فی صوبہ اوسط آبادی محض 10 سے 11 لاکھ ہے، جس کی بدولت وہاں عوام کو بہترین مقامی سہولتیں میسر ہیں۔ اس کے علاوہ نائیجیریا جیسے ملک میں بھی 22 کروڑ آبادی کے لیے 36 ریاستیں قائم کی گئی ہیں جن کی اوسط آبادی قریباً 60 لاکھ بنتی ہے۔
اس کے برعکس، پاکستان میں پنجاب کا صرف ایک صوبہ 12.7 کروڑ کی آبادی پر مشتمل ہے۔ اگر صرف پنجاب کو ہی ایک آزاد ملک فرض کرلیا جائے تو وہ دنیا کا 11 واں سب سے بڑا ملک بن جائے گا۔ اتنے بڑے صوبے کو ایک ہی وزیراعلیٰ یا بیوروکریسی کے ذریعے چلانا انتظامی ناکامی کا کھلا ثبوت ہے۔ پاکستان میں اگر آبادی اور جغرافیائی ضرورت کے تحت نئے انتظامی یونٹس (مثلاً جنوبی پنجاب، ہزارہ، پوٹھوہار، کراچی/اربن سندھ اور بلوچستان کے مزید یونٹس) قائم کیے جائیں تو اس سے ذیل میں پیش کردہ مثبت اثرات مرتب ہوں گے:
وسائل کی عادلانہ تقسیم ممکن ہوسکے گی۔ این ایف سی اور صوبائی ایوارڈز کا فنڈ براہ راست مقامی حکومتوں اور نئے صوبوں کو ملے گا، جس سے فنڈز کسی ایک بڑے شہر میں ضائع ہونے کے بجائے مقامی سطح پر سڑکوں، اسکولوں اور ہسپتالوں پر خرچ ہوں گے۔ براہ راست اور تیز تر انصاف ممکن ہوسکے گا۔ جب ہر نئے صوبے کی اپنی ہائی کورٹ اور انتظامی دفاتر قریب ہوں گے تو شہریوں کو سالہا سال عدالتوں کے چکر نہیں کاٹنے پڑیں گے۔ نئے صوبوں کے بننے سے مقامی سطح پر نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور مقامی لوگوں کو قیادت کا موقع ملے گا، جس سے قومی سطح پر احساسِ محرومی کا خاتمہ ہوگا۔ چھوٹے انتظامی یونٹس میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے لیے امن و امان کا قیام اور جرائم پر قابو پانا انتہائی آسان ہو جاتا ہے۔
پاکستان کو اگر ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے اور عوام کو ان کے آئینی و بنیادی حقوق فراہم کرنے ہیں تو ہمیں روایتی سیاسی تعصبات سے بالاتر ہوکر نئے صوبوں کی تشکیل کی طرف قدم بڑھانا ہوگا۔ آئینِ پاکستان بھی پارلیمنٹ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ عوامی مفاد میں نیا صوبہ قائم کرے۔ دنیا بھر کے اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ چھوٹے انتظامی یونٹس ہی بہتر گورننس، شفافیت اور خوشحالی کی ضامن ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں فوری طور پر نئے صوبے قائم کیے جائیں تاکہ 79 سال سے محروم عوام بھی ایک باوقار اور سہولتوں سے آراستہ زندگی گزار سکیں۔
https://urdu.voiceofsindh.live/new-administrative-units-guarantors-of-development-and-prosperity/






