Skip to content
ہفتہ, 7 نومبر 2026 ٹرینڈنگ کراچی کرکٹ صحت شوبز
بریکنگ
بلاگ

مولانا فضل الرحمان کی سیاست، تلخی یا تدبر؟

شیئر کریں
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، تلخی یا تدبر؟

دانیال جیلانی

مولانا فضل الرحمان کی حالیہ تلخ تقاریر پر بنیادی سوال یہ ہونا چاہیے کہ سیاسی اختلاف کی حدود کیا ہیں اور قومی مفاد کے تقاضے کیا۔ حکومت پر تنقید جمہوری حق ہے، مگر تنقید جب مسلسل تلخی، بداعتمادی اور تصادم کی فضا پیدا کرنے لگے تو اس کے اثرات محض ایوانوں تک محدود نہیں رہتے، عام شہری، معیشت اور قومی ادارے بھی اس کی زد میں آتے ہیں۔ اس لیے حکومت کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے بھی ضروری ہے کہ دلیل، شائستگی اور حقائق کو بنیاد بنایا جائے، نہ کہ محض شخصی مخالفت کو۔

اکتوبر کے آخری ہفتے میں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران مولانا فضل الرحمان نے تہران میں ہونے والی علاقائی ملاقات کے حوالے سے وزیر دفاع خواجہ آصف کی موجودگی اور ذمے داریوں پر سوال اٹھایا۔ اس پر حکومتی وزرا نے وضاحت کی کہ تہران کا اجلاس دفاعی معاہدے کے مذاکرات کے لیے نہیں تھا، اس لیے وزیر دفاع کی شرکت ضروری نہیں تھی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی سینیٹ میں اپنے دورۂ ایران کا پس منظر بیان کیا۔ یہاں اختلافِ رائے کا حق اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن کسی سفارتی سرگرمی کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کیے بغیر اس کے مقاصد پر سوالات اٹھانا سیاسی تنقید کو قیاس آرائی کے قریب لے جاتا ہے۔ خارجہ تعلقات اور علاقائی سفارت کاری ایسے حساس شعبے ہیں جہاں الفاظ کا انتخاب بھی قومی مفاد سے جڑا ہوتا ہے۔

پاکستان اس وقت ایک ایسے خطے میں کھڑا ہے جہاں معمولی سفارتی لغزش بھی دوررس نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ ایران، سعودی عرب اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھنا آسان کام نہیں۔ پاکستان کو ایک طرف اپنی سلامتی اور دفاعی ضروریات دیکھنا ہوتی ہیں تو دوسری طرف خطے میں امن، تعاون اور کشیدگی میں کمی کے امکانات بھی محفوظ رکھنے ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں حکومت کی ہر سفارتی کوشش کو سیاسی عینک سے دیکھنے کے بجائے اس کے نتائج، سرکاری وضاحتوں اور قومی مفاد کے تناظر میں پرکھنا زیادہ مناسب ہے۔ اگر کسی فیصلے پر سوال ہے تو پارلیمان میں جواب طلب کیا جائے، متعلقہ وزیر کو وضاحت کا پابند بنایا جائے اور پالیسی میں خامی ہو تو اس کی نشان دہی کی جائے، مگر قومی سفارت کاری کو طنز و تشنیع کا موضوع بنانا کسی بھی طور دانش مندی نہیں۔

خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورت حال اور گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ بھی سیاسی اختلاف کا اہم مرکز بنا ہوا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے حکومتی اقدامات کی آئینی حیثیت پر سوال اٹھائے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ آئینی تقاضوں کو پورا کیے بغیر ایسے اقدامات نہیں ہونے چاہئیں۔ تاہم اس بحث کو ریاست کے خلاف عمومی بداعتمادی یا اداروں کی ساکھ پر غیر محتاط حملوں میں تبدیل کرنا مسئلے کا حل نہیں۔ حکومت کے فیصلوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، ان پر نظرثانی کا مطالبہ بھی کیا جاسکتا ہے، مگر ریاستی نظام کو مسلسل مشکوک بنا دینے سے عوام کا اعتماد کمزور ہوتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ مولانا فضل الرحمان کوئی نوآموز سیاست دان نہیں۔ وہ کئی دہائیوں سے پارلیمانی سیاست کا حصہ ہیں، حکومتوں میں بھی شریک رہے ہیں اور حزب اختلاف میں بھی اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان کا سیاسی تجربہ، مذہبی حلقوں میں اثر و رسوخ اور پارلیمانی امور سے واقفیت انہیں ایک ذمے دارانہ طرزِ گفتگو کا متقاضی بناتی ہے۔ سیاست میں تجربہ محض ماضی کے عہدوں اور سیاسی کامیابیوں کا نام نہیں، اصل تجربہ یہ ہے کہ اختلاف کے شدید ترین لمحے میں بھی الفاظ کا وقار برقرار رکھا جائے۔ ایک ایسے رہنما سے جس کی بات کو اس کے کارکن اور حامی سنجیدگی سے لیتے ہیں، توقع کی جاتی ہے کہ وہ جذبات کو بھڑکانے کے بجائے انہیں قومی مکالمے کی طرف لے جائے گا۔

جمہوریت میں حکومت جواب دہ ہوتی ہے، اس کے فیصلوں پر تنقید ہوتی ہے اور حزب اختلاف اسی مقصد کے لیے موجود ہوتی ہے۔ لیکن تنقید اور محاذ آرائی میں فرق ہے۔ تنقید دلیل سے راستہ بناتی ہے، محاذ آرائی راستے بند کرتی ہے۔ تنقید کسی مسئلے کا حل تلاش کرتی ہے، محاذ آرائی ہر معاملے کو انا کی جنگ بنا دیتی ہے۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اختلافی آوازوں کو برداشت کرے، اپوزیشن کے تحفظات سنے اور قومی معاملات پر پارلیمان کو اعتماد میں لے۔ اسی طرح اپوزیشن قیادت کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے تحفظات کو اس انداز میں پیش کرے جس سے سیاسی درجہ حرارت کم ہو، نہ کہ ہر بیان کے بعد ایک نیا تنازع جنم لے۔

مولانا فضل الرحمان نے حالیہ دنوں میں حکومت کے طرز عمل کو ریاست پر سوالات اٹھنے کا سبب قرار دیا اور خیبر پختونخوا کے معاملات کے ساتھ معدنی وسائل اور دیگر قومی امور کو بھی پارلیمان میں لانے کا مطالبہ کیا۔ قومی وسائل کے بارے میں شفافیت یقیناً ضروری ہے۔ معدنی ذخائر، گوادر اور سندھ کے جزیروں جیسے معاملات پر پارلیمان میں بحث ہونی چاہیے، صوبوں اور مقامی آبادیوں کے تحفظات سنے جانے چاہئیں اور کسی بھی منصوبے میں آئینی و قانونی تقاضوں کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔ لیکن ان مطالبات کی اہمیت اسی وقت بڑھتی ہے جب انہیں سنجیدہ، مدلل اور ذمے دارانہ انداز میں پیش کیا جائے۔ حکومت کو ان سوالات کا جواب دینا چاہیے، مگر اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ وہ قومی مفاد کے معاملات کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی نذر نہ ہونے دے۔

ایک اور پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کی معیشت ابھی تک دباؤ، مہنگائی، قرضوں اور روزگار کے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ کاروباری طبقہ پالیسیوں میں تسلسل چاہتا ہے، سرمایہ کار سیاسی استحکام کے منتظر ہیں اور عام آدمی کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ اسے روزمرہ زندگی کے مسائل سے نجات ملے۔ ایسے حالات میں سیاسی قیادت کا فرض ہے کہ وہ قومی ترجیحات کو ذاتی اور جماعتی اختلافات پر فوقیت دے۔ حکومت کو معاشی اصلاحات، روزگار، تعلیم، صحت اور امن و امان کے میدان میں قابلِ پیمائش نتائج دکھانا ہوں گے، لیکن اپوزیشن کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ مسلسل سیاسی کشیدگی ان مسائل کے حل کو مزید دشوار بناتی ہے۔

حکومت اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان بڑھتی ہوئی تلخی کسی ایک جماعت یا شخصیت کا داخلی معاملہ نہیں رہیم اس کے اثرات پارلیمانی ماحول اور سیاسی مفاہمت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ 29 اکتوبر کو مولانا نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نئے میثاقِ جمہوریت کی ضرورت پر بھی زور دیا تھا۔ یہ تجویز اپنی جگہ قابلِ غور ہے، مگر میثاقِ جمہوریت صرف تقریروں اور اعلانات سے وجود میں نہیں آتا۔ اس کے لیے برداشت، باہمی احترام، آئینی حدود کی پاسداری اور سیاسی مخالف کو دشمن سمجھنے سے گریز کرنا پڑتا ہے۔ اگر واقعی قومی اتفاقِ رائے مطلوب ہے تو اس کی ابتدا تلخ جملوں کے بجائے سنجیدہ مکالمے سے ہونی چاہیے۔

حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اشتعال انگیز بیانات کا جواب اشتعال سے نہ دے۔ ریاستی ذمے داری کا تقاضا ہے کہ حکومتی ترجمان اور وزرا دلیل، تحمل اور شائستگی کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کریں۔ کسی سیاسی رہنما کے بیان سے اختلاف ہو تو اس کا جواب حقائق اور دستاویزی وضاحت سے دیا جائے۔ کسی بھی شہری یا سیاسی جماعت کے خلاف کارروائی ہو تو اس کی بنیاد قانون ہو، سیاسی انتقام کا تاثر نہیں۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جو حکومت کے مؤقف کو مضبوط اور اس کی ساکھ کو مستحکم کر سکتا ہے۔ ریاست کی قوت صرف اختیار میں نہیں، قانون کی یکساں عمل داری اور انصاف کے غیر جانب دارانہ مظاہرے میں بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان کے لیے بھی یہ لمحۂ غور ہے کہ ان کا سیاسی مقام انہیں محض مخالفانہ بیانات سے کہیں بلند کردار ادا کرنے کا موقع دیتا ہے۔ وہ چاہیں تو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطے کا پل بن سکتے ہیں، پارلیمان میں قومی مسائل پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں اور خیبر پختونخوا سمیت ملک کے حساس معاملات پر ایسی تجاویز سامنے لا سکتے ہیں جو سیاسی تقسیم کے بجائے قومی یکجہتی کا ذریعہ بنیں۔ ان کے پاس تجربہ بھی ہے، سیاسی روابط بھی اور عوامی سطح پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت بھی۔ اس قوت کو تصادم کے بجائے تعمیر کے لیے استعمال کرنا ہی ایک مدبر سیاست دان کی پہچان ہے۔

پاکستان کو اس وقت نعروں کی شدت نہیں، فیصلوں کی سنجیدگی درکار ہے، الزام تراشی نہیں، قابلِ عمل تجاویز درکار ہیں اور سیاسی انا کی تسکین نہیں، قومی مسائل کا حل درکار ہے۔ حکومت کو اپنے فیصلوں کی وضاحت اور کارکردگی کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا، جبکہ اپوزیشن کو اختلاف کے باوجود قومی استحکام کا دامن تھامے رکھنا ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان کی حالیہ تلخ گفتگو پر تنقید اسی اصول کے تحت ہونی چاہیے کہ سیاست میں کسی کو تنقید سے استثنا حاصل نہیں، لیکن کسی کو قومی مکالمے کا دروازہ بند کرنے کا حق بھی نہیں۔ حکومت کی حمایت کا اصل جواز اس کی شخصیتیں نہیں بلکہ ریاستی استحکام، آئینی تسلسل اور عوامی مفاد ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر حکومت بھی اپنی ذمے داری پوری کر سکتی ہے اور اپوزیشن بھی تاریخ کے سامنے اپنا مثبت کردار ثابت کر سکتی ہے۔

شیئر کریں

https://urdu.voiceofsindh.live/maulana-fazlur-rehmans-politics-bitterness-or-sagacity/

ویب ڈیسک
مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

74 خبریں