بلاگ مٹی کا دیا اور اونچی عمارت

بلال ظفر سولنگی
قاسم شہر کے ایک دُور افتادہ کونے میں اپنی چھوٹی سی ورکشاپ میں مٹی کے دیے اور برتن بنایا کرتا تھا۔ اس کی ہاتھوں کی مہارت ایسی تھی کہ سادہ مٹی بھی اس کی انگلیوں کے لمس سے خوبصورت شکل میں ڈھل جاتی، لیکن قاسم کی زندگی میں ایک گہرا سناٹا تھا، کیونکہ وہ ہمیشہ اپنے ارد گرد بننے والی بڑی بڑی عمارتوں، چمکتی گاڑیوں اور امیر لوگوں کی آسائشوں کو دیکھ کر اپنی غربت پر کُڑھتا رہتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ زندگی میں اصل کامیابی اور خوشی صرف اور صرف بے تحاشا دولت اور اونچے رتبے میں ہے۔
ایک دن شہر کے سب سے بڑے بزنس ٹائیکون، جنید صاحب، قاسم کی دکان کے پاس سے گزرے۔ ان کی نظر قاسم کے بنائے ہوئے ایک ہاتھ کے تراشیدہ نایاب مٹی کے گلدان پر پڑی۔ جنید صاحب نے وہ گلدان منہ مانگے داموں خرید لیا اور قاسم کو ایک عجیب پیشکش کی۔ "قاسم! تمہارے ہاتھوں میں جادو ہے۔ تم اس چھوٹی سی جھونپڑی میں اپنی صلاحیتیں ضائع کررہے ہو۔ میرے ساتھ چلو، میں تمہیں اپنے محل جیسے بنگلے میں کام دوں گا، بہترین کپڑے، شاندار کھانا اور اتنی اُجرت دوں گا جو تم نے کبھی سوچی بھی نہیں ہوگی۔ بدلے میں تمہیں صرف میرے محل کے لیے نایاب ڈیکوریشن پیس بنانے ہوں گے۔”
قاسم کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس کی برسوں پرانی حسرت پوری ہونے جارہی تھی۔ اس نے بغیر کچھ سوچے سمجھے اپنی پرانی ورکشاپ کو تالا لگایا اور جنید صاحب کے ساتھ چلا گیا۔ جنید صاحب کا بنگلہ شہر کے سب سے پرآسائش علاقے میں واقع تھا جہاں ہر چیز جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس تھی، بڑی بڑی سنگ مرمر کی دیواریں، جھومر اور شاندار فوارے۔ قاسم کے لیے ایک الگ، ایئر کنڈیشنڈ اور تمام سہولتوں سے آراستہ کمرہ بنایا گیا جہاں وہ دن رات مٹی سے مختلف خوبصورت فن پارے تراشتا۔ قاسم کو ہر وہ سہولت مل گئی جس کے اس نے صرف خواب دیکھے تھے۔ اچھے کپڑے، لذیذ کھانے اور بے پناہ پیسہ۔
لیکن وقت گزرنے کے ساتھ قاسم نے ایک عجیب بات محسوس کی۔ جنید صاحب، جو بظاہر اس اتنی بڑی سلطنت کے مالک تھے، اندر سے انتہائی اکیلے اور بے چین انسان تھے۔ وہ رات کو نیند کی گولیاں کھا کر سوتے، ہر وقت کاروباری نقصان کے خوف میں مبتلا رہتے اور ان کے اپنے بچے اور رشتہ دار صرف ان کے پیسے سے لگاؤ رکھتے تھے۔ اس بنگلے میں پرتعیش سکون تو تھا، لیکن سکونِ قلب اور حقیقی خوشی نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔
ایک شام، شہر میں ایک خوف ناک زلزلہ اور ساتھ ہی شدید طوفانی بارش آئی۔ پورا شہر اندھیرے میں ڈوب گیا اور پاور گرڈ تباہ ہونے کی وجہ سے جنید صاحب کے بنگلے کے تمام جدید الیکٹرانک سسٹمز، جنریٹرز اور لائٹیں ناکارہ ہوگئیں۔ جدید ٹیکنالوجی کی تمام چمک دمک ایک لمحے میں مٹ گئی۔ ہر طرف اندھیرا، خوف اور سنسانی کا راج تھا۔ بنگلے کے شیشے ٹوٹ رہے تھے اور تمام پرتعیش سامان اندھیرے میں بے سود پڑا تھا۔ جنید صاحب اپنے عالی شان ڈرائنگ روم کے کونے میں بیٹھے خوف سے کانپ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ ان کی اربوں روپے کی دولت بھی انہیں اس اندھیرے اور خوف سے نہیں بچاسکتی۔
اس تمام ہنگامے میں قاسم اپنے کمرے سے باہر نکلا۔ اس نے اپنے ساتھ لایا ہوا ایک سادہ سا مٹی کا دیا نکالا، اس میں تھوڑا سا تیل ڈالا اور روئی کی بتی بناکر اسے جلادیا۔ اس چھوٹے سے مٹی کے دیے کی ہلکی سی زرد روشنی نے اس پورے تاریک اور پرآسائش ڈرائنگ روم کو روشن کر دیا۔ دیے کی روشنی دیکھتے ہی جنید صاحب کی جان میں جان آئی۔ وہ قاسم کے پاس آئے اور اس کے ہاتھ میں جلتے ہوئے مٹی کے دیے کو گھورنے لگے۔
جنید صاحب نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا، "قاسم! میرے پاس اس دنیا کی ہر سہولت، اربوں روپے اور جدید ترین سامان موجود ہے، لیکن اس گہرے اندھیرے کو دور کرنے کے لیے میرے پاس ایک روپے کی روشنی بھی نہیں تھی اور تمہارے اس چند روپے کے مٹی کے دیے نے میرا خوف ختم کر دیا۔”
قاسم نے گہری سانس لی اور مسکراتے ہوئے بولا: "جنید صاحب! میں ہمیشہ یہ سمجھتا تھا کہ اونچی عمارتیں، پیسہ اور شاہانہ زندگی ہی انسان کی اصل قیمت ہوتی ہے۔ لیکن آج مجھے اندازہ ہوا کہ اصل روشنی اور سکون انسان کے اندر کی سادگی اور قناعت میں ہوتا ہے۔ اونچی عمارتیں طوفان میں ہل سکتی ہیں، لیکن مٹی کا ایک چھوٹا سا دیا، اگر دل میں نیت اور سادگی ہو، تو بڑے سے بڑے اندھیرے کو شکست دے سکتا ہے۔”
زلزلہ تھم گیا اور اگلی صبح جب سورج نکلا تو قاسم نے جنید صاحب سے اپنے پیسے اور سہولتوں کا شکریہ ادا کیا اور اپنی چھوٹی سی پرانی ورکشاپ واپس لوٹ گیا۔ اس نے اپنی باقی زندگی اسی چھوٹی سی دکان میں مٹی کے دیے بناتے ہوئے گزاری، لیکن اب اس کے دل میں کوئی حسرت یا شکایت نہیں تھی، کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی دولت اور کامیابی اندرونی سکون، سادگی اور اپنی حالت پر راضی رہنے کا نام ہے۔
https://urdu.voiceofsindh.live/a-clay-lamp-and-a-tall-building/






