بلاگ سندھ میں آبی قلت اور کے فور کی طویل تاخیر

فائزہ شفقت
سندھ اس وقت تاریخ کے شدید ترین واٹر کرائسز اور خشک سالی جیسے حالات سے گزر رہا ہے۔ صوبے بھر کے زرعی اور شہری علاقوں میں پانی کی فراہمی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔ کراچی جو پاکستان کا معاشی حب ہے، وہاں پانی کی طلب اور رسد میں مسلسل بڑا خلا موجود ہے۔ اس صورت حال کو مزید تشویش ناک بنانے والی چیز کے فور واٹر پروجیکٹ کی تاخیر ہے۔ کے فور یعنی کے فور واٹر سپلائی پروجیکٹ گزشتہ 19 سال سے التوا کا شکار ہے اور یہ منصوبہ سندھ اور کراچی کے عوام کے لیے ایک شاطرانہ خواب بن کر رہ گیا ہے۔
کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں میں ہر سال پانی کا بحران شدید تر ہوتا چلا جارہا ہے۔ پانی کی قلت کی وجہ سے نہ صرف عوام کی روزمرہ زندگی متاثر ہورہی ہے، بلکہ زراعت، صنعت اور معیشت پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ سندھ کے شہری علاقوں میں ٹینکر مافیا کا راج ہے، جہاں شہریوں کو اپنی بنیادی ضرورت کا پانی خریدنے کے لیے بھاری رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ دوسری جانب دیہی علاقوں میں نہری نظام کی ابتر حالت اور پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے آبادگار اور کسان شدید پریشان ہیں۔
کے فور منصوبے کی بنیاد 2005 میں رکھی گئی تھی، جس کا مقصد کراچی شہر کو دریائے سندھ سے روزانہ 650 ملین گیلن پانی فراہم کرنا تھا۔ 19 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ تاحال مکمل نہیں ہوسکا ہے۔ ڈیزائن میں بار بار تبدیلیاں، فنڈز کی عدم فراہمی، انتظامی نااہلی اور وفاق و صوبے کے درمیان رابطہ کاری کی کمی نے اس اہم ترین قومی منصوبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جس منصوبے کو چند سال میں مکمل ہونا چاہیے تھا، وہ دو دہائیوں کے قریب پہنچ کر بھی صرف کاغذی کارروائیوں اور مختلف تاریخوں کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔
کے فور پروجیکٹ میں تاخیر نے کراچی کی واٹر سیکیورٹی کو سخت خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ شہر کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے جب کہ پانی کی فراہمی کا بنیادی ڈھانچہ پرانا اور ناکارہ ہوچکا ہے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے مطابق شہر کو اس وقت بھی روزانہ کی بنیاد پر سیکڑوں ملین گیلن پانی کی شارٹیج کا سامنا ہے۔ اگر کے فور بروقت مکمل ہوجاتا تو کراچی میں پانی کی قلت کا مسئلہ کافی حد تک حل ہوسکتا تھا، لیکن منصوبہ بندی کی شدید کمی اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی وجہ سے یہ اہم منصوبہ تعطل کا شکار رہا۔
سندھ میں پانی کے اس بڑھتے ہوئے بحران کی اہم وجوہ میں آبی وسائل کی بدانتظامی، لائن لاسز اور غیر قانونی کنکشنز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کلائمیٹ چینج اور موسمیاتی تبدیلیاں بھی صوبے کے واٹر ریسورسز پر گہرے اثرات مرتب کررہی ہیں۔ دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ کم ہونے سے ڈیلٹا کا علاقہ تباہ ہورہا ہے اور سمندری پانی زمین میں داخل ہوکر زیر زمین میٹھے پانی کو بھی کھارا بنارہا ہے۔ اس سنگین صورت حال کے باوجود آبی وسائل کی حفاظت اور کے فور جیسے میگا پروجیکٹس کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے کوئی جامع اور ٹھوس حکمت عملی نظر نہیں آتی۔
کے فور منصوبے کی لاگت میں تاخیر کی وجہ سے اربوں روپے کا اضافہ ہوچکا ہے۔ شروعات میں اس پروجیکٹ کی لاگت انتہائی مناسب تھی، لیکن 19 سال کی طویل تاخیر اور افراط زر کے باعث اب اس منصوبے پر لاگت کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ اس تاخیر کا براہ راست بوجھ قومی خزانے اور بالواسطہ طور پر عوام کی جیبوں پر پڑ رہا ہے۔ حکومتی سطح پر بارہا دعوے اور نئی تاریخیں دی گئیں، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ کراچی کے شہری اب بھی پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ ایک دوسرے پر ملبہ ڈالنے کی پالیسی نے اس منصوبے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ وفاقی و صوبائی ادارے ایک پیج پر نظر نہیں آتے جس کی وجہ سے انفرا اسٹرکچر کی تعمیر، پائپ لائنز کی بچھائی اور پمپنگ اسٹیشنز کے کام سست روی کا شکار ہیں۔ عوام اب وعدوں اور زبانی جمع خرچ سے تنگ آچکے ہیں اور انہیں اس دیرینہ مسئلے کا عملی حل چاہیے۔
سندھ میں واٹر مینجمنٹ کو بہتر بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ کے فور واٹر سپلائی پروجیکٹ کو ہنگامی بنیادوں پر قومی ترجیح قرار دے کر مکمل کیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیسالینیشن پلانٹس، واٹر ری سائیکلنگ اور جدید ترین ایریگیشن ٹیکنالوجی کو بھی اپنایا جائے، تاکہ پانی کے ضیاع کو روکا جاسکے۔ اگر کے فور پروجیکٹ کو مزید التوا کا شکار بنایا گیا تو آنے والے برسوں میں کراچی اور سندھ کا واٹر کرائسز ایک بڑے انسانی اور معاشی بحران کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
حکومت اور متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ کے فور منصوبے کی شفاف مانیٹرنگ کے لیے ایک مستقل اور بااختیار کمیٹی قائم کریں جو فنڈز کے درست استعمال اور کام کی رفتار کو یقینی بنائے۔ پانی کسی بھی قوم کی بقا اور ترقی کا بنیادی ضامن ہوتا ہے، لہٰذا اس مسئلے کو سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر حل کرنا ہوگا۔ کے فور پروجیکٹ کی فوری تکمیل سے ہی کراچی اور سندھ کے عوام کو پانی کی شدید قلت سے نجات مل سکتی ہے اور صوبے کو ایک بڑے معاشی و سیکیورٹی چیلنج سے بچایا جاسکتا ہے۔
https://urdu.voiceofsindh.live/water-scarcity-in-sindh-and-the-prolonged-delay-in-the-k-iv-project/






