Skip to content
جمعرات, 5 نومبر 2026 ٹرینڈنگ کراچی کرکٹ صحت شوبز
بریکنگ
بلاگ

مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے خوشخبری

شیئر کریں
مہنگائی کے ستائے عوام کیلئے خوشخبری

غلام مصطفیٰ

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتِ حال نے عالمی معیشت کو ایک بار پھر بے یقینی سے دوچار کردیا ہے۔ توانائی کی عالمی منڈی میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ، تیل اور گیس کی ترسیل میں مشکلات، بحری راستوں کو لاحق خطرات اور نقل و حمل کے بڑھتے اخراجات نے دنیا کے بیشتر ممالک کو معاشی دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ پاکستان بھی اس عالمی صورتِ حال سے الگ نہیں رہ سکتا، کیونکہ ہماری معیشت کا بڑا انحصار توانائی کی درآمدات پر ہے۔ ایسے حالات میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر معاشی دباؤ پیدا کرتا ہے، جس کے اثرات براہِ راست عام شہری، مزدور، ملازم، کسان، تاجر اور ٹرانسپورٹر تک پہنچتے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتِ حال میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے عوام پر اضافی مالی بوجھ کم کرنے اور انہیں ریلیف فراہم کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات خصوصی توجہ اور تحسین کے مستحق ہیں۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ساتھ پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ حکومت عوام پر مزید مالی بوجھ منتقل کرنے کے بجائے انہیں سہولت فراہم کرنے کے لیے مختلف امکانات پر کام کررہی ہے۔ اسی سلسلے میں آئل ریفائنریز سے تعاون کی درخواست کی گئی ہے تاکہ نئے فارمولے کے تحت پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 15 روپے تک کمی ممکن بنائی جاسکے۔ یہ محض معمولی رعایت نہیں بلکہ ایسے وقت میں اہم پیش رفت ہے جب عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان کو بھی اضافی اخراجات کا سامنا ہے۔ حکومت کا یہ مؤقف کہ ریفائنریز کے منافع کے ساتھ عوامی مفاد کو بھی پیشِ نظر رکھا جانا چاہیے، ایک متوازن اور عوام دوست سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس وقت سب سے زیادہ توجہ کا مستحق وہ عام شہری ہے جس کی روزمرہ زندگی کا پہیہ پیٹرول کی قیمت سے جڑا ہوا ہے۔ موٹر سائیکل پر دفتر جانے والا ملازم ہو، رکشا چلانے والا محنت کش، چھوٹا کاروبار کرنے والا دکان دار یا محدود آمدن میں گھر چلانے والا سربراہِ خاندان، پیٹرول کی قیمت میں معمولی اضافہ بھی اس کے ماہانہ بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے قیمتوں میں ممکنہ اضافے کا بوجھ روکنے اور ریفائنریز کے تعاون سے مزید کمی کی کوشش مثبت قدم ہے۔ عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کو پاکستان اپنے اختیار سے نہیں روک سکتا، لیکن ان کے اثرات عام شہری تک کم سے کم پہنچانے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اختیار کرنا حکومت کی اہم ذمے داری ہے۔


حکومت کی جانب سے فیول سبسڈی اسکیم کا اجرا بھی اسی سلسلے کی ایک نمایاں کڑی ہے۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق اس اسکیم سے اب تک ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ افراد مستفید ہوچکے ہیں اور 27 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا جا چکا ہے۔ موٹر سائیکلوں، چنگ چی رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کو اسکیم میں شامل کرنا اس اعتبار سے اہم ہے کہ یہ ذرائع آمدورفت بڑی تعداد میں کم اور متوسط آمدن رکھنے والے شہری استعمال کرتے ہیں۔ موٹر سائیکل پاکستان میں محض سواری نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کے لیے روزگار، تعلیم اور روزمرہ ضروریات تک رسائی کا ذریعہ ہے۔ اسی طرح رکشا ڈرائیور کے لیے ایندھن کی قیمت اس کی روزانہ آمدن سے براہِ راست جڑی ہوتی ہے۔ لہٰذا ان طبقات کو سبسڈی فراہم کرنا ان کے گھریلو اخراجات اور معاشی مشکلات کم کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ تاہم عوامی ریلیف صرف اعلانات سے مؤثر نہیں ہوتا بلکہ اس کی فراہمی کا طریقہ بھی آسان، شفاف اور قابلِ اعتماد ہونا ضروری ہے۔ حکومت نے متعلقہ محکموں کے اشتراک سے فیول سبسڈی اسکیم پر عمل درآمد کے اقدامات کیے ہیں، جو ادارہ جاتی تعاون کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ ضروری ہے کہ رجسٹریشن، ادائیگی اور تصدیق کے مراحل غیر ضروری پیچیدگیوں سے پاک ہوں۔ کسی شہری کو اپنے جائز حق کے حصول کے لیے دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اور نہ ہی سفارش یا غیر ضروری دستاویزات کی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑے۔ شفافیت ہی وہ بنیادی اصول ہے جو کسی بھی عوامی فلاحی منصوبے پر اعتماد کو مضبوط بناتا ہے۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم کی جانب سے ایل پی جی کی ناجائز قیمتوں کے خلاف کارروائی کا اعلان بھی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر عالمی بحران یا رسد کی مشکلات کو جواز بناکر مقامی سطح پر من مانے نرخ وصول کیے جائیں تو اس کا نقصان براہِ راست عام صارف کو ہوتا ہے۔ حکومت نے اوگرا اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے مہنگی ایل این جی فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا ذکر بھی کیا ہے۔ اس سلسلے میں ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے صرف اعلانات تک محدود نہ رہیں بلکہ مارکیٹ کی مؤثر نگرانی کریں۔ گیس کی فراہمی، قیمتوں پر کنٹرول اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام بھی عوامی ریلیف کا لازمی حصہ ہیں۔ پاکستان کے لیے موجودہ توانائی بحران کا ایک اہم پہلو ایل این جی کی فراہمی بھی ہے۔ خطے میں جنگی حالات اور بحری راستوں کو لاحق خطرات کے باعث درآمدی توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم نے متبادل راستوں پر کام کرنے اور عوام کو گیس کی فراہمی یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ یہ ایک ضروری حکمتِ عملی ہے، کیونکہ توانائی کی مسلسل فراہمی صرف گھریلو صارفین ہی نہیں بلکہ صنعت، زراعت، تجارت اور مجموعی قومی پیداوار کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ہنگامی اقدامات کے ساتھ طویل المدتی منصوبہ بندی بھی کرے تاکہ پاکستان مستقبل میں عالمی منڈی کے اچانک جھٹکوں سے کم متاثر ہو۔


عالمی بحران کے دوران حکومت، آئل ریفائنریز، درآمد کنندگان اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون ناگزیر ہوجاتا ہے۔ حکومت کی جانب سے ریفائنریز سے عوامی مفاد میں تعاون کی درخواست اسی اجتماعی ذمہ داری کی یاد دہانی ہے۔ مشکل وقت میں کسی ایک فریق کو تمام بوجھ اٹھانے پر مجبور کرنے کے بجائے ایسا راستہ اختیار کرنا چاہیے جس میں کاروباری اداروں کا جائز مفاد بھی محفوظ رہے اور عوام کو بھی مناسب ریلیف ملے۔ معاشی استحکام اسی وقت ممکن ہے جب حکومت اور نجی شعبہ قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے فیصلے کریں۔ بلاشبہ حکومت کو مہنگائی، مالیاتی دباؤ، درآمدی اخراجات اور محدود معاشی وسائل جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ لیکن ان مشکلات کے باوجود عوامی ریلیف کے لیے سبسڈی اسکیم، پیٹرول کی قیمت میں ممکنہ 15 روپے فی لیٹر کمی کی کوشش، ریفائنریز سے مذاکرات اور گیس کی فراہمی یقینی بنانے جیسے اقدامات ایک مثبت سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کوششوں کو تسلسل دے، مستحق طبقوں کو ترجیح دے اور ریلیف کی فراہمی کے نتائج باقاعدگی سے عوام کے سامنے رکھے۔ یہ حقیقت فراموش نہیں کی جاسکتی کہ قومی بحرانوں کا مقابلہ صرف حکومتی فیصلوں سے نہیں بلکہ اجتماعی ذمے داری، ادارہ جاتی تعاون اور عوامی اعتماد سے کیا جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی حکومتی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ اقدامات محض وقتی سہولت ثابت نہ ہوں بلکہ ایک مستقل عوام دوست معاشی پالیسی کی بنیاد بنیں، تاکہ مشکل حالات میں سب سے زیادہ بوجھ اٹھانے والے غریب اور متوسط طبقے کو حقیقی تحفظ مل سکے۔

شیئر کریں

https://urdu.voiceofsindh.live/good-news-for-people-burdened-by-inflation/

ویب ڈیسک
مصنف کے بارے میں

ویب ڈیسک

56 خبریں